صحیح مسلم (جلد سوم)

Page 23 of 373

صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 23

23 كتاب المساجد و مواضع الصلاة عِفْرِينَا مِنَ الْجِنِّ جَعَلَ يَفْتِكُ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ وَإِنَّ اللَّهَ أَمْكَنَنِي مِنْهُ دوں یہانتک کہ صبح ہو تو تم سب اسے دیکھ لولیکن پھر فَدَعَتُهُ فَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَرْبطَهُ إِلَى جنب مجھے اپنے بھائی سلیمان کا قول یاد آ گیا رَبِّ اغْفِرْ لِی سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا وَهَبْ لِى مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لَاحَدٍ مِنْ بَعْدِى تَنْظُرُونَ إِلَيْهِ أَجْمَعُونَ أَوْ كُلُكُمْ ثُمَّ ذَكَرْتُ ( ص : 36) اے میرے رب! مجھے بخش دے اور قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مجھے ایسی بادشاہت عطاء کر جو میرے بعد کسی کو نہ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي فَرَدَّهُ اللهُ ملی * تو اللہ نے اس کو ذلیل ورسوا کرتے ہوئے لوٹا حَاسَنًا و قَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّد دیا۔زِيَادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابن جعفر کی روایت میں فَدَعَتُہ کے الفاظ ہیں اور مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ح و حَدَّثَنَاه أَبو ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں فَدَعَتُهُ کہا ہے۔بن بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ قَوْلُهُ فَدَعَتُهُ وَأَمَّا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ فَدَعَتُهُ [1210,1209] 835 (40) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ :835 حضرت ابو درداء سے روایت ہے وہ بیان الْمُرَادِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّه بْنُ وَهْبٍ عَنْ کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نماز مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ میں کھڑے ہوئے۔ہم نے آپ کو یہ کہتے ہوئے يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبي سنا کہ میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں پھر تین دفعہ الدَّرْدَاءِ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله فرمایا میں تجھ پہ اللہ کی لعنت ڈالتا ہوں۔پھر آپ نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ اپنا ہاتھ اس طرح پھیلایا جیسے آپ کوئی چیز پکڑ رہے مِنْكَ ثُمَّ قَالَ أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ ثَلَاثًا وَبَسَطَ ہوں۔جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے حملہ : حضرت سلیمان نے سرکش لوگوں کو ظاہری طاقت سے دبایا مگر آپ کے بعد وہ اطاعت سے نکل گئے۔حضور علیہ نے قوت قدسیہ سے مقابلہ کیا اور ان کو مغلوب کیا۔