صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 316
316 كتاب صلاة المسافرين وقصرها فَعَرَفْتُ فِيهِ تَحَوَّسَ الْقَوْمِ وَهَيْتَهُمْ قَالَ ہیں کہ ایک آدمی آیا میں نے اس میں لوگوں سے اور فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي ثُمَّ قَالَ أَتَحْفَظُ كَمَا كَانَ ان کے انداز سے جھجک محسوس کی۔(راوی) کہتے عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ [1916 1917] ہیں کہ وہ میرے پہلو میں بیٹھ گیا اور پھر کہنے لگا کیا تمہیں (بھی قرآن ) اس طرح یاد ہے جس طرح عبد الله بیان کی۔پڑھتے تھے۔پھر آگے اس جیسی روایت 1357{284} حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ 1357 علقمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ حضرت ابو درداتھ سے ملا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ عَلْقَمَةَ کہ تم کن میں سے ہو؟ میں نے کہا کہ میں اہل عراق قَالَ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَقَالَ لِي مِمَّنْ أَنْتَ سے ہوں۔انہوں نے پوچھا کہ ان میں سے کونسے قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ مِنْ أَيْهِمْ قُلْتُ لوگوں میں سے ہو؟ میں نے کہا کہ اہل کوفہ سے۔مِنْ أَهْلِ الْكُوفَة قَالَ هَلْ تَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَة انہوں نے کہا کہ کیا تم حضرت عبداللہ بن مسعود کی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ قراءت پر پڑھ سکتے ہو؟ میں نے کہا ہاں۔انہوں فَاقْرَأْ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى قَالَ فَقَرَأْتُ نے کہا کہ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی پڑھو تو راوی کہتے ہیں وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى کہ میں نے وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِإِذَا وَالذَّكَرِ وَالْأُنثَى قَالَ فَضَحِكَ ثُمَّ قَالَ تَجَلَّى وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَی پڑھی۔راوی کہتے ہیں هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اس پر وہ ہے۔پھر انہوں نے کہا کہ اسی طرح میں وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَّى نے اسے رسول اللہ ﷺ کو پڑھتے ہوئے سنا۔حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عَامِرٍ ایک اور روایت میں علقمہ سے مروی روایت ہے وہ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ أَتَيْتُ الشَّامَ فَلَقيتُ أَبَا کہتے ہیں کہ میں شام آیا اور پھر حضرت ابو دردا سے الدَّرْدَاءِ فَذَكَرَ بمثل حديث ابْنِ ملا۔پھر راوی نے ابن علیہ جیسی روایت بیان کی۔عليَّة [1919,1918]