صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 313
313 كتاب صلاة المسافرين وقصرها لِلَّهِ الَّذِي أَقَالَنَا يَوْمَنَا هَذَا فَقَالَ مَهْدِي نہیں نکلا تو حضرت عبداللہ پھر تسبیح کرنے لگے یہانتک وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَلَمْ يُهْلَكْنَا بذُنُوبَنَا قَالَ کہ انہیں خیال ہوا کہ سورج نکل آیا ہے۔تو انہوں نے فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ کہا اے لڑکی! دیکھو کہ سورج نکل آیا ہے؟ چنانچہ اس الْبَارِحَةَ كُلَّهُ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا كَهَدْ نے دیکھا تو ( سورج ) نکل چکا تھا۔تب انہوں نے کہا الشَّعْرِ إِنَّا لَقَدْ سَمِعْنَا الْقَرَائِنَ وَإِنِّي لَأَحْفَظُ که تمام تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جس نے اس الْقَرَائِنَ الَّتِي كَانَ يَقْرَؤُهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ ہمارے آج کے دن ہم سے درگز رفرمایا۔مہدی کہتے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِنَ ہیں میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس نے الْمُفَصَّلِ وَسُورَتَيْنِ مِنْ آل حم [1911] ہمارے گناہوں کے باعث ہمیں ہلاک نہ کیا۔راوی کہتے ہیں کہ لوگوں میں سے کسی نے کہا کہ گزشتہ رات میں نے ساری مفضل سورتیں پڑھیں راوی کہتے ہیں کہ اس پر حضرت عبد اللہ نے کہا کہ یہ تو جلدی جلدی شعر پڑھنے کی طرح ہے۔یقیناً ہم نے ایک جیسی ( برابر کی سورتوں کو سنا اور مجھے یقیناً وہ ایک جیسی (برابر کی ) اٹھارہ سورتیں حفظ ہیں جو رسول اللہ علی پڑھا کرتے تھے جو مفصل میں سے تھیں اور دوسورتیں وہ ہیں جو حکم کے گروپ سے سے تعلق رکھتی ہیں۔1352 (279) حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا 1352 شقیق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بنی حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ بجيله کا ایک شخص جسے نہیک بن سنان کہا جاتا تھا۔مَنْصُورٍ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي حضرت عبداللہ کے پاس آیا اور کہا کہ میں ایک رکعت بَحِيلَةَ يُقَالُ لَهُ نَهِيكُ بْنُ سَنَانِ إِلَى عَبْد میں مفصل سورتیں پڑھ لیتا ہوں۔اس پر حضرت اللهِ فَقَالَ إنّى أَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِى رَكْعَةِ عبدالله نے کہا کہ یہ تو شعر کی طرح جلدی جلدی فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا كَهَدُ الشَّعْرِ لَقَدْ پڑھنا ہے۔یقیناً میں ایسی ملتی جلتی سورتیں جانتا مفصل : قرآن شریف کے ایک حصہ کے لئے یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے جو قرآن کے آخر میں ہے۔