صحیح مسلم (جلد سوم)

Page 312 of 373

صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 312

312 كتاب صلاة المسافرين وقصرها عيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ في هَذَا اور کہا کہ عبداللہ کے مجموعہ میں میں سورتیں مفضل الْإِسْنَادِ بَنَحْو حَدِيثِهِمَا وَقَالَ إِنِّي لَأَعْرِفُ میں سے ہیں۔النَّطَائِرَ الَّتي كَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ رَسُولُ الله ایک اور روایت حضرت عبد اللہ سے مروی ہے انہوں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْنِ فِي رَكْعَة نے کہا کہ میں ایک جیسی سورتوں کے بارہ میں جانتا عِشْرِينَ سُورَةٌ فِي عَشْرِ رَكَعَاتٍ ہوں جو رسول اللہ ﷺ ایک رکعت میں دو پڑھا کرتے تھے ( یعنی ) ہیں سورتیں دس رکعات میں۔[1910,1909,1908] 1351{278} حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوحَ :1351 ابووائل سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا وَاصِل ایک دن ہم صبح کی نماز کے بعد صبح سویرے الْأَحْدَبُ عَنْ أَبِي وَائِلِ قَالَ غَدَوْنَا عَلَى حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے پاس گئے۔ہم نے عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَوْمًا بَعْدَ مَا صَلَّيْنَا دروازے پر سلام کہا انہوں نے ہمیں اجازت دی۔الْغَدَاةَ فَسَلَّمْنَا بِالْبَابِ فَأَذنَ لَنَا قَالَ وہ کہتے ہیں کہ ہم کچھ دیر دروازے پر ٹھہرے رہے۔فَمَكَفْنَا بِالْبَابِ هُنَيَّةً قَالَ فَخَرَجَتِ الْجَارِيَةُ وہ کہتے ہیں پھر ایک لڑکی باہر آئی اور اس نے کہا آپ فَقَالَتْ أَلَّا تَدْخَلُونَ فَدَخَلْنَا فَإِذَا هُوَ جَالس اندر کیوں نہیں جاتے؟ ہم اندر گئے تو وہ بیٹھے تسبیح يُسَبِّحُ فَقَالَ مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوا وَقَدْ أَذِنَ کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ تمہیں اندر آنے سے لَكُمْ فَقُلْنَا لَا إِلَّا أَنَّا ظَنَنَّا أَنْ بَعْضَ أَهْلِ کس بات نے روکا جبکہ تمہیں اجازت دے دی گئی س الْبَيْتِ نَائِمٌ قَالَ ظَنَنْتُمْ بِآلِ ابْنِ أُمِّ عَبْدِ تھی؟ ہم نے کہا نہیں سوائے اس کے کہ ہمیں خیال غَفْلَةً قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ يُسَبِّحُ حَتَّى ظَنَّ أَنَّ ہوا کہ کوئی گھر والا سور رہا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ تم نے الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ فَقَالَ يَا جَارِيَةُ انْظُري ابن ام عبد کی آل کے بارہ میں ایسی غفلت کا گمان هَلْ طَلَعَتْ قَالَ فَنَظَرَتْ فَإِذَا هِيَ لَمْ تَطْلُعْ کیا۔راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ تسبیح کرنے لگے۔فَأَقْبَلَ يُسَبِّحُ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ یہانتک کہ انہیں خیال ہوا کہ سورج طلوع ہو گیا ہے۔طَلَعَتْ قَالَ يَا جَارِيَةُ انْظُري هَلْ طَلَعَتْ تو انہوں نے کہا اے لڑکی! دیکھو کیا ( سورج ) نکل آیا فَنَظَرَتْ فَإِذَا هِيَ قَدْ طَلَعَت فَقَالَ الْحَمْدُ ہے؟ راوی کہتے ہیں اس نے دیکھا کہ ابھی (سورج) ید مفضل سورتوں کی ایک تقسیم جو بعد کے زمانہ کے لوگوں نے اپنی سہولت کے لئے کی تھی۔