صحیح مسلم (جلد سوم)

Page 311 of 373

صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 311

311 كتاب صلاة المسافرين وقصرها غَيْرِ آسِن أَوْ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ يَاسِن قَالَ فَقَالَ راوی کہتے ہیں حضرت عبداللہ نے کہا کہ تم نے اس عَبْدُ الله وَكُلَّ الْقُرْآن قَدْ أَحْصَيْتَ غَيْرَ کے علاوہ سارے قرآن کا احاطہ کر لیا ہے؟ اس نے کہا هَذَا قَالَ إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةِ کہ میں مفضل سورتیں ایک رکعت میں پڑھ لیتا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَدًّا كَهَدَ الشَّعْرِ إِنْ أَقْوَامًا ہوں۔اس پر حضرت عبداللہ نے کہا کہ تیزی سے شعر يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ وَلَكِنْ پڑھنے کی تیزی کی طرح۔یقینا کچھ ایسے ہیں کہ إِذَا وَقَعَ فِي الْقَلْبِ فَرَسَخَ فِيهِ نَفَعَ إِنَّ قرآن پڑھتے ہیں لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں أَفْضَلَ الصَّلَاةِ الرُّكُوعُ وَالسُّجُودُ إِلي اترتا ہاں جب دل میں داخل ہو اور اس میں راسخ ہو لَأَعْلَمُ النَّطَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى جائے تب نفع دیتا ہے۔یقینا نماز کا بہترین حصہ رکوع اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ سُورَتَيْنِ فِي اور سجدہ ہے اور میں ملتی جلتی سورتیں جانتا ہوں جن صلى الله كُلِّ رَكْعَة ثُمَّ قَامَ عَبْدُ اللَّه فَدَخَلَ عَلْقَمَةُ میں سے رسول اللہ ﷺ ہر رکعت میں دو سورتیں فِي إِثْرِهِ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ قَدْ أَخْبَرَنِي بِهَا قَالَ ملاتے تھے۔پھر عبداللہ کھڑے ہوئے اور علقمہ ان ابْنُ نُمَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي کے پیچھے آئے۔پھر وہ نکلے اور کہا آپ نے مجھے اس بَحِيلَةَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ وَلَمْ يَقُلْ نَهِيكُ بْنُ کے بارہ میں بتایا تھا۔ابن نمیر اپنی روایت میں کہتے سِنَانٍ (276) وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب حَدَّثَنَا ہیں کہ بنی بجیلہ کا ایک آدمی حضرت عبداللہ کے أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ پاس آیا اور ٹھیک بن سنان نہیں کہا۔ایک اور روایت جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ يُقَالُ لَهُ نَهِيكُ بْنُ میں ہے جو ابو وائل سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ سنَانٍ بمِثْل حَدِيثٍ وَكِيعِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ایک شخص حضرت عبداللہ کے پاس آیا جس کا نام نہیک فَجَاءَ عَلْقَمَةُ لِيَدْخُلَ عَلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ سَلْهُ عَنِ بن سنان تھا باقی روایت وکیع کی روایت کی طرح ہے النَّظَائِرِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا پھر علقمہ آئے تا وہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي رَكْعَةٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ ان کے پاس اندر جائیں تو ہم نے ان سے کہا کہ ملتی فَسَأَلَهُ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ عِشْرُونَ جلتی سورتوں کے بارہ میں پوچھو جو رسول اللہ علی سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ فِي تَأليف عَبْدِ اللَّهِ ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔پھر وہ ان کے (277) وحَدَّثَنَاهِ إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا پاس گئے اور اُن سے پوچھا، پھر ہمارے پاس آئے