صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 21
21 كتاب المساجد و مواضع الصلاة لحَاجَةِ ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يَسِيرُ قَالَ قُتَيْبَةُ میں نے آپ کو سلام کہا۔آپ نے مجھے اشارہ فرمایا يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ فَلَمَّا فَرَغَ جب آپ ( نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے مجھے دَعَانِي فَقَالَ إِنَّكَ سَلَّمْتَ آنِفًا وَأَنَا أَصَلِّي بلایا اور فرمایا کہ تم نے ابھی مجھے سلام کیا تھا جبکہ میں وَهُوَ مُوَجِّهُ حِينَئِذ قبلَ الْمَشْرِقِ [1205] نماز پڑھ رہا تھا اس وقت آپ مشرق کی طرف رخ کئے ہوئے تھے۔832{37} حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا :832 زبیر بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے ابوالزبیر نے صلى الله زُهَيْرٌ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ حضرت جابر سے روایت کی وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ہے أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے مجھے (کسی کام کے لئے ) بھیجا اور آپ بنی وَهُوَ مُنْطَلِقْ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقَ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ مصطلق کی طرف جارہے تھے۔میں آپ کی خدمت يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ فَكَلَّمْتُهُ فَقَالَ لِي بِيَدِهِ میں حاضر ہوا تو آپ اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے هَكَذَا وَأَوْمَا زُهَيْرٌ بِيَدِهِ ثُمَّ كَلَّمْتُهُ فَقَالَ لِي میں نے آپ سے بات کی تو آپ نے اپنے ہاتھ سے هَكَذَا فَأَوْمَا زُهَيْرُ أَيْضًا بِيَدِهِ نَحْوَ الْأَرْضِ ہوں اشارہ کیا۔زہیر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔پھر وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأَبُو مِئُ بِرَأْسِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ میں نے آپ سے بات کی پھر آپ نے مجھے اس طرح اشارہ کیا۔پس زہیر نے بھی اپنے ہاتھ سے زمین کی مَا فَعَلْتَ في الَّذِي أَرْسَلْتُكَ لَهُ فَإِنَّهُ لَمْ طرف اشارہ کر کے بتایا ( جابڑ کہتے ہیں ) میں آپ کو يَمْنَعْنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أَصَلِّي قَالَ زُهَيْرٌ وَأَبُو الزُّبَيْرِ جَالِسٌ مُسْتَقْبِلَ الْكَعْبَة قراءت کرتے ہوئے سن رہا تھا۔آپ اپنے سر سے اشارہ کر رہے تھے۔جب آپ ( نماز سے ) فارغ فَقَالَ بِيَدِهِ أَبُو الزُّبَيْرِ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ ہوئے تو فرمایا کہ اس کام کا کیا بنا جس کے لئے میں فَقَالَ بَيَدِهِ إِلَى غَيْرِ الْكَعْبَة [1206] نے تمہیں بھیجا تھا؟ میں صرف اس لئے تم سے بات نہیں کر سکا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔زہیر کہتے ہیں کہ ابوالز بیر قبلہ رخ بیٹھے ہوئے تھے۔ابوالزبیر نے اپنے ہاتھ سے بنی مصطلق کی طرف اشارہ کیا۔انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کعبہ کے علاوہ دوسرے رُخ کیا۔احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور علیہ سفر میں نفل نماز سواری پر ادا کر لیا کرتے تھے۔