صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 289
289 كتاب صلاة المسافرين وقصرها [37]144: بَابِ فَضِيلَةِ حَافِظِ الْقُرْآنِ :باب قرآن حفظ کرنے والے کی فضیلت 1320 (243) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعيد وأبو 1320 حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے وہ كَامِل الْجَحْدَرِيُّ كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی سی ہے اس کی أَنَسٍ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ خوشبو بھی اچھی ہے اور اس کا ذائقہ بھی اچھا ہے اور رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی ہے اس الْمُؤمن الذي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأَثرُجة کی خوشبو نہیں ہے لیکن اس کا ذائقہ میٹھا ہے اور وہ رِيعُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ منافق جو قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال خوشبو دار الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ السَّمْرَةِ لَا رِيحَ لَهَا پھول جیسی ہے۔اس کی خوشبو تو عمدہ ہے لیکن اس کا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ ذائقہ کڑوا ہے اور وہ منافق جو قرآن نہیں پڑھتا اسکی الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَة ريحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مثال حنظل جیسی ہے جس کی خوشبو نہیں ہے اور ذائقہ مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ بھی کڑوا ہے۔كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ تمام کی روایت میں منافق کی بجائے فاجر کے الفاظ و حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِد حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حو حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سعيد عَنْ شُعْبَةَ كَلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ هَمَّامٍ بَدَلَ الْمُنَافِقِ الْفَاجِر [1861,1860] ہیں۔نارنگی سنگترہ کی طرح Citrus فیملی کا ایک پھل ہے۔حنظل کو اندرائن یا پنجاب میں تحمہ کہتے ہیں۔