صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 19
19 كتاب المساجد و مواضع الصلاة بها فَذَاكَ قَالَ وَكَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَما میں بعض آدمی ایسے ہیں جو لکھتے ہیں۔آپ نے لِي قِبَلَ أَحدِ وَالْجَوَّانِيَّةِ فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فرمایا نبیوں میں سے ایک نبی بھی لکھا کرتے تھے پس فَإِذَا الدِّيبُ قَدْ ذَهَبَ بشَاةِ مِنْ غَنَمهَا وَأَنَا جس نے اس کی تحریر سے موافقت کی وہ تو ہوا۔وہ رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ کہتے ہیں پھر انہوں نے کہا کہ میری ایک باندی تھی جو لكنّي صَكَكْتُهَا صَكَةٌ فَأَتَيْتُ رَسُولَ الله أحد اور جوانیہ کی طرف میری بکریاں چرایا کرتی تھی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَظْمَ ذَلكَ عَلَيَّ ایک روز میں نے دیکھا کہ ایک بھیڑیا اس کی بکریوں قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُعْتِقُهَا قَالَ ائْتِنِي میں سے ایک بکری لے گیا ہے۔میں بھی بنی آدم میں فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ لَهَا أَيْنَ اللَّهُ قَالَتْ في سے ایک آدمی ہوں اور مجھے بھی غصہ آتا ہے جیسے السَّمَاءِ قَالَ مَنْ أَنَا قَالَتْ أَنتَ رَسُولُ الله انہیں آتا ہے چنانچہ میں اسے ایک تھپڑ مار بیٹھا۔پھر قَالَ أَعْتَقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا نے میرے اس فعل کو بہت سنگین قرار دیا۔میں نے الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبي كثير بهذا عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے کر آؤ۔میں اسے آپ کے پاس لے آیا تو آپ نے اس سے فرمایا اللہ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا کہ آسمان میں۔آپ نے پوچھا کہ میں کون ہوں؟ اس نے کہا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اسے آزاد کر دو، یہ مؤمنہ ہے۔الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ [1200,1199] 829{34} حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :829: حضرت عبداللہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبِ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو سَعِيدِ ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو سلام کہتے جبکہ آپ نماز الْأَشَجُّ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ پڑھ رہے ہوتے تھے۔آپ ہمیں ( سلام کا ) جواب فُضَيْلِ حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ دیتے۔جب ہم نجاشی کے پاس سے واپس آئے اور عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَی ہم نے آپ کو سلام کہا آپ نے ہمیں جواب نہ دیا۔