صحیح مسلم (جلد سوم)

Page 278 of 373

صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 278

278 كتاب صلاة المسافرين وقصرها صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ یہ حضرت زینب صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَحَبْلُ کی (ری ) ہے وہ نماز پڑھتی ہیں جب کمزوری مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا محسوس کرتی ہیں یا تھک جاتی ہیں تو اسے پکڑ لیتی لِزَيْنَبَ تُصَلِّي فَإِذَا كَسَلَتْ أَوْ فَتَرَتْ ہیں اس پر حضور نے فرمایا کہ اسے کھول دو، تم میں أَمْسَكَتْ به فَقَالَ حُلُوهُ لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ بشاشت کے ساتھ نماز نَشَاطَهُ فَإِذَا كَسَلَ أَوْ فَتَرَ قَعَدَ وَفِي حَدیث پڑھے پھر جب وہ تھک جائے یا ماندہ ہو جائے تو زُهَيْرِ فَلْيَقْعُدْ و حَدَّثَنَاهُ شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوحَ بیٹھ جائے۔حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مثله [1832,1831] 1299{220 وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى 1299: ابن شہاب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ مجھے حضرت عروہ بن زبیر نے بتایا کہ نبی اے کی وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ نے انہیں بتایا کہ حولاء بنت أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ تويت بن حبیب بن اسد بن عبد العزی کا ان کے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ پاس سے گزر ہوا جبکہ ان کے پاس رسول اللہ ﷺ الْحَوْلَاءَ بِنتَ تُوَيْتِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ تشریف فرما تھے۔میں نے عرض کیا کہ یہ حولاء عَبْدِ الْعُزَّى مَرَّتْ بِهَا وَعِنْدَهَا رَسُولُ اللَّهِ بنت تو یت ہے ، لوگوں کا خیال ہے یہ رات کو نہیں الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ هَذه الْحَوْلَاء سوتی۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رات کو نہیں بنْتُ تُوَيْتِ وَزَعَمُوا أَنَّهَا لَا تَنَامُ اللَّيْلَ فَقَالَ سوتی ! اتنے اعمال بجالاؤ جن کی تم طاقت رکھتے ہو رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَنَامُ اللہ کی قسم ! اللہ نہیں تھکتا مگر تم تھک جاؤ گے۔اللَّيْلَ خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لَا يَسْأَمُ اللَّهُ حَتَّى تَسْأَمُوا [1833]