صحیح مسلم (جلد سوم)

Page 277 of 373

صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 277

277 كتاب صلاة المسافرين وقصرها 1296{217) وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبِ 1296: علاقمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ام المؤمنین حضرت عائشہ سے سوال کیا۔کہتے ہیں صلى الله عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ میں نے عرض کیا اے ام المؤمنین ! رسول اللہ علی سَأَلْتُ أَمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ يَا أُمَّ کا طریق کار کیا تھا؟ کیا آپ ( کسی کام کے لئے ) الْمُؤْمِنِينَ كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللهِ کچھ دن مخصوص فرمایا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا نہیں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ كَانَ يَحْصُّ شَيْئًا حضور کے کام دائمی ہوتے تھے اور تم میں سے کون مِنَ الْأَيَّامِ قَالَتْ لَا كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً وَأَيُّكُمْ ایسی استطاعت رکھتا ہے جو استطاعت رسول اللہ علیہ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ رکھتے تھے۔الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطِيعُ [1829] 1297{218) وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي 1297: حضرت عائشہ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ که رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ پسندیده ترین کام وہ ہے جس میں با قاعدگی ہوا گر چہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى وہ تھوڑا ہی ہو۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ جب اللَّهِ تَعَالَى أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ قَالَ وَكَانَت کوئی کام کرتیں تو اسے لازم کرلیتیں۔عَائِشَةُ إِذَا عَمِلَتِ الْعَمَلَ لَزِمَتْهُ [1830] 1391311: بَاب أَمْرِ مَنْ نَعَسَ فِي صَلَاتِهِ أَوِ اسْتَعْجَمَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ أَوِ الذِّكْرُ بِأَنْ يَرْقُدَ أَوْ يَقْعُدَ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ باب : اس شخص کا معاملہ جسے نماز میں اونگھ آجائے یا قرآن اور ذکر الہی سمجھ نہ آرہا ہو کہ وہ لیٹ جائے یا بیٹھ جائے یہانتک کہ اس کی یہ کیفیت جاتی رہے 1298(219) وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي :1298 حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ ایک مرتبہ رسول اللہ علہ مسجد میں داخل ہوئے اور حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ دوستونوں کے درمیان ایک رسی تھی۔آپ نے پوچھا