صحیح مسلم (جلد سوم)

Page 276 of 373

صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 276

276 كتاب صلاة المسافرين وقصرها رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا مزید کہا کہ اگر وہ (نماز) تم پر فرض کر دی جاتی تو لَيَالِيَ حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ فَذَكَرَ نَحْوَهُ تم اسے نبھا نہ سکتے۔تم وَزَادَ فِيهِ وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ [1826,1825] [30]138: بَاب فَضِيلَةِ الْعَمَلِ الدَّائِمِ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ وَغَيْرِهِ باب رات کی عبادت اور دوسرے ( نیک اعمال ) پر دوام کی فضیلت 1294{215 وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :1294 حضرت عائشہ سے روایت ہے وہ بیان کرتی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي التَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک چٹائی تھی۔آپ رات عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي کو اس سے اوٹ بنا لیتے اور اس میں نماز پڑھتے اور سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ لِرَسُولِ دن کو اسے بچھا لیتے۔لوگ بھی آپ کے ساتھ نماز الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصِیرٌ وَكَانَ پڑھنے لگے۔ایک رات لوگ جوق در جوق آئے يُحَجِّرُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُصَلِّي فِيهِ فَجَعَلَ النَّاسُ آپ نے فرمایا اے لوگو ! تمہیں چاہیے کہ تم وہ اعمال يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ وَيَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ فَتَابُوا کرو جن کی تم طاقت رکھتے ہو کیونکہ اللہ نہیں تھکتا مگر تم ذَاتَ لَيْلَةً فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ مِنَ تھک جاؤ گے۔یقینا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ الْأَعْمَالَ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى پسندیدہ عمل وہی ہے جس پر دوام اختیار کیا جائے۔تَمَلُوا وَإِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللهِ مَا دُووم خواہ وہ تھوڑا ہی ہو ( راوی بیان کرتے ہیں ) کہ آل عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ وَكَانَ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى الله محمد ا ا ا للہ جب کوئی کام شروع کرتے تو اس پر ثابت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَمِلُوا عَمَلًا أَثْبَتُوهُ [1827] قدم رہتے۔1295(216) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :1295: حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ اللہ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سے سوال کیا گیا کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ سَعْدِ بْن إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ حضور نے فرمایا کہ وہ عمل يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى جس پر سب سے زیادہ دوام ہو خواہ وہ تھوڑا ہی ہو۔اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ [1828]