صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 271
حَدَّثَنَا 271 كتاب صلاة المسافرين وقصرها ابي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ عَنْ سَعْدِ بْنِ رکعت میں اسے پڑھیں گے لیکن آپ پھر آگے گزر عُبَيْدَةَ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ عَنْ صِلَةَ گئے۔پھر میں نے سوچا کہ اس پر آپ رکوع کر لیں بْن زُفَرَ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ گے لیکن آپ نے پھر النساء شروع فرما دی۔اور آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةِ فَافْتَتَحَ نے اسے پڑھا۔پھر آپ نے آلِ عمران شروع الْبَقَرَةَ فَقُلْتُ يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ ثُمَّ مَضَى فرما دی اور اسے بڑے دھیمے انداز میں ٹھہر ٹھہر کر فَقُلْتُ يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ فَمَضَى فَقُلْتُ پڑھا۔جب آپ ایسی آیت سے گزرتے جس میں يَرْكَعُ بِهَا ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ افْتَتَحَ تیج ہوتی تو تسبیح کرتے اور جب آپ کسی سوال کی آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا يَقْرَأُ مُتَرَسُلًا إِذَا مَرَّ بِآيَة آیت سے گزرتے تو سوال کرتے اور جب ایسی فِيهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالِ سَأَلَ آیت سے گزرتے جہاں (اللہ کی پناہ مانگنے کا ذکر وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوذ تَعَوَّذَ ثُمَّ رَكَعَ فَجَعَلَ يَقُولُ ہوتا تو پناہ طلب کرتے۔پھر آپ نے رکوع کیا اور سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوا کہنے لگے۔سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ پاک ہے میرا مِنْ قِيَامِهِ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ رب بڑی عظمت والا اور آپ کا رکوع آپ کے قیام قَامَ طَوِيلًا قَرِيبًا مِمَّا رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ جتناہی تھا۔پھر آپ نے سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہا ( یعنی اللہ نے سن لی اس کی جس نے اس کی سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا حمد کی۔پھر آپ نے لمبا قیام کیا جو آپ کے رکوع من قيامه قَالَ وَفِي حَدِيث جَرِيرٍ مِنْ الزِّيَادَةِ فَقَالَ سمع لَكَ الْحَمْدُ [1814] اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا 60 کے قریب قریب تھا۔پھر آپ نے سجدہ کیا اور کہا سُبْحَانَ رَبِّي الا علی پاک ہے میرا رب بڑی ،، بلندشان والا اور آپ کا سجدہ آپ کے قیام کے قریب قریب تھا۔جریر کی روایت میں مزید یہ ہے کہ آپ نے کہا سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ : من لى اللہ نے اس کی جس نے اس کی حمد کی۔اے ہمارے رب! تمام تعریف تیرے لئے ہی ہے۔