صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 270
270 كتاب صلاة المسافرين وقصرها مَا قَدَّمْتُ إلى آخر الْحَدِيث وَلَمْ يَقُلْ بَيْنَ نہیں۔ایک اور روایت اعرج سے اسی سند سے مروی التَّشَهدِ وَالتَسْلِيم [1813,1812] ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع فرماتے تو اللہ اکبر کہتے اور کہتے وَجْهُتُ وَجْهِيَ اور کہتے وَآنَا اوّلُ الْمُسْلِمِينَ *۔راوی کہتے ہیں کہ جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے سمع اللہ لمن حمدہ اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی حمد کی۔اے ہمارے رب ! تمام تعریف تیرے لئے ہی ہے۔نیز یہ کہتے (اللہ نے) اسے صورت دی اور کیا ہی اچھی صورت دی۔(راوی) کہتے ہیں کہ جب آپ سلام پھیرتے تو کہتے اے اللہ ! مجھے بخش دے جو میں نے آگے بھیجالی روایت آخر تک} لیکن انہوں نے تشہد و تسلیم کے درمیان“ کے الفاظ کا ذکر نہیں کیا۔دو [27]135: بَاب اسْتِحْبَابِ تَطْوِيلِ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ باب : رات کی نماز میں لمبی قراءت کا مستحب ہونا 1283(203) وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي :1283 حضرت حذیفہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْب وَإِسْحَقَ بْنُ تو آپ نے (سورۃ البقرہ سے آغاز فرمایا میں نے إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ كُلَّهُمْ عَنِ سوچا کہ آپ سو آئیتوں پر رکوع کریں گے لیکن آپ الْأَعْمَش ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرِ وَاللَّفْظُ لَهُ آگے گزر گئے۔پھر میں نے سوچا کہ آپ ایک نوٹ: اس فقرہ میں آیت انِی وَجْهَتُ وَجُهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ﴾ اور آیات ﴿ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِین کے مضمون کی طرف اشارہ ہے۔