صحیح مسلم (جلد سوم)

Page 266 of 373

صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 266

مسلم جلد سوم 266 كتاب صلاة المسافرين وقصرها قَالَ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَفْتُتح دو ہلکی رکعتوں سے کرے۔صَلَاتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ [1807] 1991280} حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعيد عَنْ :1280 حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُس رسول الله لا جب رات کے دوران نماز کے لئے عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله کھڑے ہوتے تو عرض کرتے۔اے اللہ ! تمام عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ تعریف تیرے ہی لئے ہے تو آسمانوں اور زمین کا منْ جَوْفِ اللَّيْلِ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنت نور نور ہے اور تمام تعریف تیرے لئے ہی ہے۔تو السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنتَ قَيَّامُ آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے اور تمام السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ تعریف تیرے لئے ہی ہے۔تو آسمان اور زمین السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ أَنْتَ الْحَقُّ اور جو کچھ ان میں ہے ان کا رب ہے۔تو حق ہے۔وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ اور تیرا وعدہ بھی حق ہے۔اور تیرا قول بھی حق ہے۔وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اللَّهُمَّ اور تیری ملاقات بھی حق ہے اور جنت بھی حق ہے لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ اور دوزخ بھی حق ہے اور ساعت بھی حق ہے۔وَإِلَيْكَ أَنبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ اے اللہ ! میں تیری فرمانبرداری اختیار کرتا ہوں اور حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَرْتُ تجھ پر ایمان لاتا ہوں اور تجھ پر توکل کرتا ہوں اور وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ تیری طرف جھکتا ہوں اور تیری مدد سے ہی (دشمن حَدَّثَنَا عَمْرُو النَّاقِدُ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَابْنُ أَبِي کا مقابلہ کرتا ہوں۔تیرے حضور ہی فیصلہ کے عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ لئے حاضر ہوتا ہوں۔مجھے بخش دے جو میں نے بْنُ رَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا اور جو پوشیدہ کیا اور كلَاهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَل عَنْ جو اعلانیہ کیا۔تو میرا معبود ہے اور تیرے سوا میرا طَاوُسِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله کوئی معبود نہیں۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ فَاتَّفَقَ جہاں تک ابن جریج کی روایت کا تعلق ہے تو اس لَفْظُهُ مَعَ حَدِيثِ مَالِكِ لَمْ يَخْتَلِفًا إِلَّا فِي کے لفظ مالک کی روایت سے متفق ہیں اور دونوں جُرَيْج