صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 260
260 كتاب صلاة المسافرين وقصرها اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي لگ جاتا تھا۔پھر آپ نماز کے لئے باہر تشریف لے بَصَرِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي گئے اور نماز پڑھی اور اپنی نماز یا سجدہ میں یہ کہا اے نُورًا وَأَمَامِي نُورًا وَخَلْفِي نُورًا وَفَوْقِي الله ! میرے دل میں نور ڈال دے اور میرے کانوں نُورًا وَتَحْتِي نُورًا وَاجْعَلْ لِي نُورًا أَوْ قَالَ میں نور اور میری آنکھوں میں نور اور میرے دائیں نور وَاجْعَلْنِي نُورًا و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ اور میرے بائیں نور، میرے آگے نور اور میرے پیچھے حَدَّثَنَا النَّصْرُ بْنُ شُمَيْلِ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ نور میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور اور میرے لئے حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كَهَيْلِ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ نور ہی نور کر دے یا آپ نے کہا کہ مجھے (سراپا ) ) كُرَيْب عَنِ ابْنِ عباس قال سَلَمَةَ فَلَقيتُ نور بنادے۔كُرَيْبًا فَقَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ كُنْتُ عِنْدَ حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ میں اپنی خالہ حضرت خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ میمونہ کے ہاں تھا کہ رسول اللہ عنہ تشریف لائے۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِیثِ غُنْدَرِ پھر ( راوی نے) غندر کی روایت کی طرح روایت وَقَالَ وَاجْعَلْنِي نُورًا وَلَمْ يَسُكَ {188) و بیان کی اور انہوں نے وَاجْعَلْنِی نُورًا کے الفاظ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَنَّادُ بْنُ بیان کئے اور اس میں شک کا اظہار نہیں کیا۔السَّرِيِّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سَعِيدِ حضرت ابن عباس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک بْنِ مَسْرُوقِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كَهَيْلِ عَنْ أَبِي رات میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ کے رِشَدِينِ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ہاں گزاری۔آگے حدیث بیان کی لیکن اس میں قَالَ بِتُ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ وَاقْتَصَّ چہرے اور ہاتھوں کے دھونے کا ذکر نہیں کیا سوائے الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْكُرْ غَسَلَ الْوَجْهِ وَالْكَفِّيْنِ اس کے کہ انہوں نے کہا کہ پھر آپ مشکیزہ کے پاس غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ أَتَى الْقُرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا تشریف لائے۔اس کی گرہ کھولی اور ایک درمیانہ سا فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْن ثُمَّ أَتَى وضوء کیا۔پھر اپنے بستر پر تشریف لائے اور فِرَاشَهُ فَنَامَ ثُمَّ قَامَ قَوْمَةً أُخْرَى فَأَتَى الْقِرْبَةَ سوگئے۔پھر دوسری مرتبہ اٹھے اور مشکیزے کے پاس فَحَلَّ شِنَاقَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا هُوَ الْوُضُوءُ تشریف لائے اور اس کی گرہ کھولی۔پھر ایک مکمل وَقَالَ أَعْظِمْ لِي نُورًا وَلَمْ يَذْكُرْ وَاجْعَلْنِي وضوء کیا اور کہا میرے لئے نور کو بڑھا دے اور اس