صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 255
255 كتاب صلاة المسافرين وقصرها الْوُضُوءَيْنِ وَلَمْ يُكْثِرُ وَقَدْ أَبْلَغَ ثُمَّ قَامَ میں نے انگڑائی لی کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ حضور یہ فَصَلَّى فَقُمْتُ فَتَمَطَّيْتُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَى سمجھیں کہ میں بیدار تھا اور آپ کی طرف متوجہ تھا۔أَنِّي كُنْتُ أَنْتَبهُ لَهُ فَتَوَضَّأْتُ فَقَامَ فَصَلَّی میں نے وضوء کیا اور آپ کھڑے نماز پڑھ رہے فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي تھے۔میں آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔آپ عَنْ يَمِينِهِ فَتَتَامَّتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی دائیں طرف اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ لے آئے۔رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز تیرہ رَكْعَةً ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ وَكَانَ رکعت مکمل ہوئی۔پھر آپ لیٹ گئے اور سو گئے إِذَا نَامَ نَفَخَ فَأَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بالصَّلَاةِ فَقَامَ یہانتک کہ آپ زور زور سے سانس لینے لگے اور آپ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأُ وَكَانَ فِي دُعَائِهِ اللَّهُمَّ جب سوتے تو آپ کے سانس کی آواز آتی۔پھر اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا حضرت بلال آپ کے پاس آئے اور آپ کو نماز کی وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ اطلاع دی چنانچہ آپ اُٹھے ، نماز پڑھی اور (دوبارہ) يَسَارِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وَتَحْتِي نُورًا وضو نہیں کیا اور آپ کی دعا میں سے یہ بھی ہے اے وَأَمَامِي نُورًا وَخَلْفِي نُورًا وَعَظُمْ لِي نُورًا اللہ ! میرے دل میں نور ڈال دے اور میری آنکھ میں قَالَ كُرَيْبٌ وَسَبْعًا فِي التَّابُوتِ فَلَقيتُ بھی نور اور میرے کان میں بھی نور، میرے دائیں بھی بَعْضَ وَلَدِ الْعَبَّاسِ فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ فَذَكَرَ نور اور میرے بائیں بھی نور، میرے اوپر بھی نور اور میرے نیچے بھی نور، میرے آگے بھی نور اور میرے عَصَبِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَشَعْرِي وَبَشَرِي پیچھے بھی نور اور میرے لئے نور کو بہت زیادہ بڑھا دے۔کریب کہتے ہیں سات الفاظ میرے دل میں ہیں میں عباس کے ایک بیٹے سے ملا تو اس نے مجھے وہ بتائے۔پھر ان کا ذکر کیا۔۔۔میرے اعصاب میں، میرے گوشت میں، میرے خون میں، میرے بالوں میں ، اور میری جلد میں۔۔۔۔دو اور چیزیں انہوں نے ذکر کیں۔وَذَكَرَ خَصْلَتَيْن [1788]