صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 253
253 كتاب صلاة المسافرين وقصرها فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ جب آپ فجر کی نماز ادا کر چکے تو لوگوں کی طرف عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَرَجَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ فَلَمَّا متوجہ ہوئے اور تشہد پڑھا اور فرمایا اما بعد آج قَضَى الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ تَشَهَّدَ رات تمہاری حالت مجھ پر تھی یہ تھی لیکن مجھے اس بات فَقَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَحْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمُ کا ڈر ہوا کہ رات کی نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے اور تم اللَّيْلَةَ وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ اس سے عاجز آ جاؤ۔صَلَاةُ اللَّيْلِ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا [1784] 1264{179} حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ :1264 زر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حضرت ابی بن کعب کو کہتے ہوئے سنا کہ ان سے الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي عَبْدَةُ عَنْ زِرِّ قَالَ کہا گیا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں جس سَمِعْتُ أَبَيَّ بْنَ كَعْب يَقُولُ وَقِيلَ لَهُ إِنَّ نے سال بھر عبادت کی وہ لیلۃ القدر کو پالے گا۔عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ مَنْ قَامَ السَّنَةَ حضرت اُبی نے کہا اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت أَصَابَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَقَالَ أَبَيٌّ وَالله الذي لا کے لائق نہیں یقیناً وہ ( رات ) رمضان ہی میں ہے إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ يَخْلِفُ مَا اور (یہ بات ) انہوں نے قسم کھا کر بغیر کسی استثناء يَسْتَثْنِي وَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَيُّ لَيْلَةٍ هِيَ هِيَ کے کہی اور (کہا) اللہ کی قسم مجھے پتہ ہے کہ وہ کونسی اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَابِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ رات ہے۔یہ وہ رات ہے جس میں عبادت کا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِيَامِهَا هِيَ لَيْلَةُ صَبِيحَةِ سَبْعِ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ارشاد فرمایا ہے۔یہ وہ وَعِشْرِينَ وَأَمَارَتُهَا أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فِي رات ہے جس کی صبح ستائیسویں ہوتی ہے اور اس کی صَبِيحَةِ يَوْمِهَا بَيْضَاءَ لَا شُعَاعَ لَهَا [1785] نشانی یہ ہے کہ اس روز صبح کو سورج روشن نکلتا ہے اس کی شعاع نہیں ہوتی۔2 1 - حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی رائے میں کوئی حقیقی اختلاف نہیں۔یہ بات بھی درست ہے کہ لیلتہ القدر پانے کا وہی حقدار ہے جو سال بھر عبادت کرتا ہے سال بھر نمازوں سے غافل رہنے والا اور صرف رمضان کی ایک رات عبادت کرنے والا لیلۃ القدر کا حقدار نہیں۔2۔سورج کے متعلق جو رائے حضرت ابی بن کعب نے بیان کی ہے وہ حدیث کا حصہ نہیں۔