صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 236
236 كتاب صلاة المسافرين وقصرها قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى أَنْ سَعْدَ بْنَ اس پر انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ نے سچ کہا۔اگر هِشَامٍ كَانَ جَارًا لَهُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ میں ان کے قریب ہوتا یا ان کے پاس جا سکتا تو ضرور وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِیثِ سَعِيدِ جاتا یہانتک کہ آپ مجھ سے اس بارہ میں بالمشافہہ وَفِيهِ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قَالَ ابْنُ عَامِرٍ قَالَتْ بات کرتیں (سعد بن ہشام ) کہتے ہیں میں نے کہا نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ أَصِيبَ مَعَ رَسُول الله کہ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ آپ ان کے پاس نہیں جاتے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَحْدِ وَفِيهِ فَقَالَ تو میں ان کی بات آپ کے پاس بیان نہ کرتا۔قتادہ زرارہ بن اوفی سے سعد بن ہشام کے بارہ میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی حكيمُ بْنُ أَفْلَحَ أَمَا إِنِّي لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ لَا تَدْخَلُ عَلَيْهَا مَا أَنْبَأْتُكَ بِحَدِيثَهَا [1739] [1742,1741,1740] پھر وہ مدینہ گئے تا کہ اپنی جائیداد فروخت کریں۔دوسری روایت میں ہے کہ سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس کے پاس گیا اور ان سے وتر کے بارہ میں پوچھا اور آگے راوی نے روایت بیان کی ہے اور اس میں کہا کہ انہوں ( حضرت عائشہ ) نے پوچھا کون ہشام؟ میں نے کہا ابن عامر۔انہوں نے فرمایا (ابن ) عامر کیا ہی اچھا آدمی تھا جو جنگِ اُحد میں شہید ہوا۔زرارہ بن اوفی سے روایت ہے کہ سعد بن ہشام ان کے پڑوسی تھے انہوں نے اسے بتایا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر روایت بیان کی اس میں ذکر کیا کہ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ کون ہشام؟ انہوں نے کہا ابن عامر - حضرت عائشہ نے فرمایا کیا ہی اچھا آدمی تھا۔وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ اُحد میں تھے اور شہید ہوئے۔اس روایت میں ہے کہ حکیم بن افلح نے کہا جہانتک میرا تعلق ہے اگر مجھے علم ہوتا کہ آپ ان کے پاس نہیں جاتے تو میں آپ کو ان کی روایت نہ بتاتا۔