صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 235
235 كتاب صلاة المسافرين وقصرها صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً وَلَا چاہتا بیدار کر دیتا۔آپ مسواک کرتے ، وضوء کرتے أَعْلَمُ نَبيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ اور نو رکعت پڑھتے اور ان میں سے صرف آٹھویں الْقُرْآنَ كُلَّهُ في لَيْلَة وَلَا صَلَّى لَيْلَةً إِلَى رکعت میں بیٹھتے اور اللہ کا ذکر کرتے ، اس کی حمد الصُّبْحِ وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلا غَيْرَ رَمَضَانَ کرتے ، اس سے دعا کرتے پھر کھڑے ہو جاتے اور قَالَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاس فَحَدَّثْتُهُ سلام نہ پھیرتے * پھر کھڑے ہو جاتے اور نویں بِحَدِيثِهَا فَقَالَ صَدَقَت لَوْ كُنْتُ أَقْرَبُهَا أَوْ رکعت پڑھتے۔پھر بیٹھتے، اللہ کا ذکر، اس کی حمد أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّى تُشَافِهَنِي بِهِ قَالَ کرتے ، اس سے دعا کرتے، اس طرح سلام قُلْتُ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا مَا پھیرتے کہ ہمیں سناتے۔پھر سلام کے بعد دو رکعت حَدَّثْتُكَ حَدِيثَهَا و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى بیٹھ کر پڑھتے۔اور اے میرے بیٹے ! یہ گیارہ رکعتیں حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ ہوئیں۔پھر جب اللہ کے نبی ﷺ کی عمر زیادہ ہوگئی عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ آپ کا وزن کچھ بڑھ گیا تو آپ سات رکعت سے طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الْمَدِينَةِ لِبيعَ وتر کرتے اور پہلے کی طرح دو رکعتیں پڑھتے۔یہ نو عَقَارَهُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ رکعتیں ہو گئیں۔اے میرے بیٹے ! اور اللہ کے نبی أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشَرِ حَدَّثَنَا الله جب کوئی (نفل) نماز پڑھتے تو پسند فرماتے کہ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ اس پر دوام اختیار کریں لیکن اگر نیند کے غلبہ یا کسی زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ قَالَ تکلیف کی وجہ سے رات کی عبادت نہ کر پاتے تو آپ الطَلَقْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاس فَسَأَلْتُهُ دن میں بارہ رکعت پڑھ لیتے اور میرے علم میں نہیں عَنِ الْوِتْرِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَقَالَ فِيهِ کہ اللہ کے نبی ﷺ نے پورا قرآن ایک رات میں قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قُلْتُ ابْنُ عَامِرٍ قَالَتْ نِعْمَ پڑھا ہو اور نہ ہی ساری رات صبح تک نماز پڑھی ہو الْمَرْءُ كَانَ عَامِرٌ أُصِيبَ يَوْمَ أُحَدٍ و حَدَّثَنَا اور نہ ہی رمضان کے علاوہ پورا مہینہ روزے إِسْحَقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعِ رکھتے ہوں۔وہ کہتے ہیں پھر میں حضرت ابن كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عباس کے پاس گیا اور انہیں آپ کی روایت سنائی۔صحیح بخاری میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ حضور یہ تہجد میں چار رکعت پڑھتے اور پھر چار رکعت پڑھتے۔