صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 234
234 كتاب صلاة المسافرين وقصرها بَلَى قَالَتْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ قِيَامَ اللہ ان پر رحم کرے اور ان کا ذکر خیر کیا۔قتادہ کہتے اللَّيْلِ فِي أَوَّلِ هَذه السُّورَةِ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ ہیں وہ ہشام بن عامر ) احد کے دن شہید ہوئے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا تھے۔پھر میں نے عرض کیا اے ام المؤمنین! مجھے وَأَمْسَكَ اللَّهُ خَاتِمَتَهَا اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا فِي رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارہ میں بتائیے! السَّمَاءِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ فِي آخِرِ هَذِهِ حضرت عائشہ فرمانے لگیں کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ؟ السُّورَةِ التَّخْفِيفَ فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعاً میں نے عرض کیا کیوں نہیں۔انہوں نے فرمایا کہ اللہ بَعْدَ فَرِيضَةِ قَالَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ کے نبی اللہ کے اخلاق قرآن تھے۔وہ کہتے ہیں تب أَنبئيني عَنْ وثر رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ میں نے اٹھ کر جانے کا ارادہ کیا اور یہ کہ اپنی موت تک وَسَلَّمَ فَقَالَتْ كُنَّا يُعدُّ لَهُ سَوَاكَهُ وَطَهُورَهُ کسی سے کچھ نہیں پوچھوں گا۔پھر مجھے خیال آیا تو میں فَيَبْعَثُهُ اللهُ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ نے کہا کہ مجھے رسول اللہ اللہ کے رات کے ) قیام فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتِ لا کے بارہ میں بتائیے ! آپ نے فرمایا کہ کیا تم یايُّهَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَذْكُرُ اللهَ الْمُؤْمِلُ نہیں پڑھتے۔میں نے کہا کیوں نہیں؟ کہنے وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلَّمَ ثُمَّ لگیں کہ یقینا اللہ عز و جل نے اس سورت کے شروع يَقُومُ فَيُصَلِّ التَّاسِعَةَ ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ میں رات کے قیام کا حکم دیا۔چنانچہ اللہ کے نبی علی وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا اور آپ کے صحابہ سال بھر عبادت کرتے رہے اور اللہ يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ نے اس سورۃ کے آخری حصے کو بارہ مہینے آسمان میں وَهُوَ قَاعِدٌ فَتِلْكَ إحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا روکے رکھا۔پھر اللہ نے اس سورت کے آخر میں بُنَيَّ فَلَمَّا سَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ تخفیف فرما دی اور رات کی عبادت جو فرض ( سمجھی وَسَلَّمَ وَأَخَذَهُ اللَّحْمُ أَوْثَرَ بِسَبْعِ وَصَنَعَ فِي گئی تھی ) نقل قرار پائی۔وہ کہتے ہیں میں نے عرض الرَّكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَنيعه الأَوَّل فَتِلْكَ تسْع يَا کیا اے ام المؤمنین ! مجھے رسول اللہ ﷺ کے وتر بُنَيَّ وَكَانَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے بارہ میں بتائیے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم آپ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا کے لئے مسواک اور وضوء کا پانی تیار رکھا کرتے وَكَانَ إِذَا غَلَبَهُ نَوْمٌ أَوْ وَجَعْ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ تھے۔اور رات کے جس حصہ میں اللہ آپ کو بیدار کرنا