صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 233
233 كتاب صلاة المسافرين وقصرها فَسَأَلَهُ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عباس کے پاس آئے اور ان سے رسول اللہ علی وَسَلَّمَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاس أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَعْلَم کے وتر (پڑھنے) کے بارہ میں پوچھا۔حضرت ابن أَهْلِ الْأَرْضِ بوثرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عباس نے کہا کیا میں تمہیں رسول اللہ ہے کے وتر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ عَائِشَةُ فَأْتِهَا کے بارہ میں سب سے زیادہ جاننے والے کا نہ فَاسْأَلْهَا ثُمَّ ائْتِي فَأَخْبِرْنِي بِرَدْهَا عَلَيْكَ بتاؤں؟ انہوں نے پوچھا وہ کون؟ انہوں نے کہا کہ فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهَا فَأَتَيْتُ عَلَى حَكيم بن أَفْلَحَ حضرت عائشہؓ۔تم ان کے پاس جاؤ اور اُن سے فَاسْتَلْحَقْتُهُ إِلَيْهَا فَقَالَ مَا أَنَا بِقَارِبِهَا لِأَنِّي پوچھو، پھر میرے پاس آکر مجھے ان کا جواب بتانا جو وہ نَهَيْتُهَا أَنْ تَقُولَ فِي هَاتَيْنِ الشَّيْعَتَيْنِ شَيْئًا تمہیں بتائیں چنانچہ میں ان (حضرت عائشہ) کی فَأَبَتْ فِيهِمَا إِلَّا مُضِيَّا قَالَ فَأَقْسَمْتَ عَلَيْهِ طرف چل پڑا۔(پہلے میں حکیم بن افلح کے پاس گیا ) فَجَاءَ فَانْطَلَقْنَا إِلَى عَائِشَةَ فَاسْتَأْذَنَا عَلَيْهَا اور انہیں اُن کے پاس لے جانا چاہا۔وہ کہنے لگے کہ فَأَذِنَتْ لَنَا فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَقَالَتْ أَحَكِيمٌ میں تو ان کے پاس نہیں جانے کا کیونکہ میں نے انہیں فَعَرَفَتْهُ فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَتْ مَنْ مَعَكَ قَالَ ان دو گروہوں کے بارے میں کچھ کہنے سے روکا تھا سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قَالَ ابْنُ لیکن وہ نہ مانیں اور اپنی رائے پر قائم رہیں۔وہ عَامِرٍ فَتَرَحَمَتْ عَلَيْهِ وَقَالَتْ خَيْرًا قَالَ ( سعد بن ہشام) کہتے ہیں پھر میں نے انہیں ( حکیم قَتَادَةً وَكَانَ أُصِيبَ يَوْمَ أَحْدِ فَقُلْتُ يَا أُمَّ بن افلح کو مقسم دی۔وہ جانے پر آمادہ ہو گئے۔چنانچہ الْمُؤْمِنِينَ أَثْبِتَينِي عَنْ خُلُقٍ رَسُولِ اللَّهِ ہم حضرت عائشہ کی طرف گئے اور ہم نے ان کی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی۔الْقُرْآنَ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنْ خُلُقَ نَبِيِّ اللَّهِ انہوں نے ہمیں اجازت دی۔ہم ان کی خدمت میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ قَالَ حاضر ہو گئے تو انہوں نے فرمایا کیا حکیم ہو؟ گویا آپ فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلَ أَحَدًا عَنْ شَيْءٍ نے انہیں پہچان لیا انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔پھر حَتَّى أَمُوتَ ثُمَّ بَدَا لِي فَقُلْتُ البَنِينِي عَنْ آپ نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں قِيَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا سعد بن ہشام۔انہوں نے پوچھا کون ہشام؟ فَقَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُلْتُ انہوں نے کہا عامر کے بیٹے۔چنانچہ آپ نے کہا کہ