صحیح مسلم (جلد سوم)

Page 232 of 373

صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 232

232 كتاب صلاة المسافرين وقصرها 1224{138} حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا :1224: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی حَسَّانُ قَاضِي كَرْمَانَ عَنْ سَعِيد بْن ہیں رسول اللہ ﷺ نے رات کے ہر ایک حصہ مَسْرُوقٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ میں وتر پڑھے ہیں۔پھر آپ کے وتر پڑھنے کا معمول عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُلَّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ رات کے آخری حصہ تک پہنچ گیا۔اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى آخِرِ اللَّيْلِ [1738] سعيد [18] 126 : بَاب جَامِعِ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَمَنْ نَامَ عَنْهُ أَوْ مَرِضَ رات کی نماز اور جو اس سے سویا ر ہے یا بیمار ہو ، کا جامع بیان 1225 (139) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :1225 : زرارہ سے روایت ہے کہ سعد بن ہشام بن الْعَتَزِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ عامر نے اللہ کی راہ میں غزوہ پر جانے کا ارادہ کیا عَنْ قَتَادَةَ۔عَنْ زُرَارَةَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ چنانچہ وہ مدینہ آئے انہوں نے چاہا کہ وہ اپنی وہاں کی هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ فِي سَبِيل الله جائیداد بیچ کر اس کے عوض اسلحہ اور گھوڑے خرید لیں فَقَدمَ الْمَدِينَةَ فَأَرَادَ أَنْ يَبيعَ عَقَارًا لَهُ بِهَا اور رومیوں سے جہاد کریں یہانتک کہ انہیں موت فَيَجْعَلَهُ فِي السَّلَاحِ وَالْكُرَاعِ وَيُجَاهِدَ آجائے۔جب وہ مدینہ آئے اور مدینہ کے کچھ الرُّومَ حَتَّى يَمُوتَ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ لَقِيَ لوگوں سے ملاقات کی تو انہوں نے انہیں اس سے روکا أَنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَنَهَوْهُ عَنْ ذَلِكَ اور انہیں بتایا کہ چھ اشخاص نے اللہ کے نبی ﷺ کی وَأَخْبَرُوهُ أَنْ رَهْطًا ستَّةَ أَرَادُوا ذَلكَ في زندگی میں ایسا ارادہ کیا تھا لیکن اللہ کے نبی ﷺ نے حَيَاةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہیں روک دیا ، اور فرمایا کیا میری ذات میں تمہارے فَنَهَاهُمْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لئے اسوۂ نہیں ہے؟ چنانچہ جب لوگوں نے ان کو یہ وَقَالَ أَلَيْسَ لَكُمْ فِي أَسْوَةٌ فَلَمَّا حَدَّثُوهُ بتایا تو انہوں ( سعد بن ہشام بن عروہ) نے اپنی بیوی بِذَلِكَ رَاجَعَ امْرَأَتَهُ وَقَدْ كَانَ طَلَّقَهَا سے جسے وہ طلاق دے چکے تھے رجوع کر لیا اور اس وَأَشْهَدَ عَلَى رِجْعَتِهَا فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسِ سے رجوع کے گواہ بھی ٹھہرا لئے۔پھر وہ حضرت ابن