صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 207
207 كتاب صلاة المسافرين وقصرها 1169(80) وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :1169 حضرت عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے روایت وَابْنُ بَشَارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ام ہانی کے علاوہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْن مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ کسی نے نہیں بتایا وہ بیان فرماتی ہیں کہ انہوں الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ مَا أَخْبَرَنِي أَحَدٌ نے نبی ﷺ کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ہے۔انہوں نے کہا کہ نبی علے فتح مکہ کے دن ان الضُّحَى إِلَّا أُمُّ هَانِي فَإِنَّهَا حَدَّثَتْ أَنَّ النَّبِيَّ کے گھر تشریف لائے اور آٹھ رکعت ادا فرمائیں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتَحِ میں نے کبھی آپ کو اس سے ہلکی نماز پڑھتے نہیں دیکھا مَكَّةَ فَصَلَّى ثَمَانِي رَكَعَاتِ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّى مگر آپ رکوع و سجود پورا فرماتے۔صَلَاةً قَطُّ أَحَفَّ مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يُتِمُّ ابن بشار نے اپنی روایت میں راوی کے قول قط الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ بَشَارِ کا ذکر نہیں کیا۔فِي حَدِيثه قَوْلَهُ قَطُّ [1667] (1170(81) و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى :1170 عبد اللہ بن حارث بن نوفل کہتے ہیں کہ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا میں سوال کیا کرتا تھا اور اس بارہ میں حریص تھا کہ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبِ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ لوگوں میں سے کسی ایسے شخص کو پاؤں جو مجھے شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبْدِ اللهِ بنِ بتائے کہ رسول اللہ ﷺ نے چاشت کے نوافل الْحَارِثِ أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ پڑھے ہیں لیکن میں نے حضرت ام ہانی بنت ابی نَوْفَل قَالَ سَأَلْتُ وَحَرَضْتُ عَلَى أَنْ أَجِدَ طالب کے علاوہ کسی کو نہ پایا جو مجھے اس بارہ میں مِنَ النَّاسِ يُخْبِرُنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ بتائے انہوں نے مجھے اس بارہ میں بتایا کہ فتح مکہ کے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ سُبْحَةً دن خوب دن چڑھ جانے کے بعد رسول اللہ علی : الضُّحَى فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُحَدِّثُنِي ذَلِكَ غَيْرَ تشریف لائے ایک کپڑا لایا گیا جس سے آپ پر أَنْ أُمَّ هَانِي بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ بِنْتَ أَبِي طَالب أَخْبَرَتْنِي أَنْ پردہ کیا گیا پھر آپ نے غسل فرمایا پھر کھڑے ہوئے رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى بَعْدَ اور آٹھ رکعت پڑھیں۔میں نہیں جانتی کہ اس میں مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ يَوْمَ الْفَتْحِ فَأْتِيَ بِثَوْب آپ کا قیام زیادہ طویل تھا یا آپ کے رکوع یا آپ أَحَدًا