صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 205
205 كتاب صلاة المسافرين وقصرها [13]121: بَاب اسْتحْبَاب صَلَاةِ الضُّحَى وَأَنَّ أَقَلُّهَا رَكْعَتَانِ وَأَكْمَلَهَا ثَمَانِ رَكَعَاتٍ وَأَوْسَطَهَا أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ أَوْ سِتُّ وَالْحَثُ عَلَى الْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا :باب: چاشت کی نماز پڑھنے کا مستحب ہونا اور یہ کہ اس کی کم سے کم دو رکعت ہیں اور اس کی مکمل شکل آٹھ رکعت ہے اور اس کی درمیانی صورت چار یا چھ رکعت ) ہے اور اس کے اہتمام کی ترغیب کا بیان 1164{75) و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى :1164 عبد اللہ بن شقیق سے روایت ہے وہ کہتے أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ سَعِيدِ الْجُرَيْرِيِّ ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ کیا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن شقيق قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ نبی ﷺ چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے ؟ آپ نے هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہا نہیں سوائے اس کے کہ آپ سفر سے واپس يُصَلِّي الضُّحَى قَالَتْ لَا إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ تشریف لائے ہوں۔مغيبه [1660] 761165 وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ الله بْنُ مُعَاذَ :1165: عبد الله بن شقیق سے روایت ہے وہ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا الْقَيْسِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ کہ کیا نبی ﷺ چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے ؟ لعَائِشَةَ أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آپ نے کہا نہیں سوائے اس کے کہ آپ اپنے سفر يُصَلِّي الضُّحَى قَالَتْ لَا إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ سے واپس تشریف لائے ہوں۔مغيبه [1661] 1166{77) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ :1166 حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ بیان قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ فرماتی ہیں کہ میں نے کبھی رسول اللہ ﷺ کو چاشت عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ کے نوافل پڑھتے نہیں دیکھا لیکن میں اس کے نوافل رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي پڑھتی ہوں رسول اللہ ﷺ کی پسندیدہ کام کو بعض الله