صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 198
198 كتاب صلاة المسافرين وقصرها 1150{61} حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :1150: حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی علی وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبِ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ (نماز کے بعد) اپنے دائیں طرف سے واپس سُفْيَانَ عَنِ عَن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ السُّدِّيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنْ النَّبِيَّ جاتے۔يمينه [1641] [8]116: بَابِ اسْتِحْبَابِ يَمِينِ الْإِمَامِ باب: امام کے دائیں طرف ( کھڑے ) ہونے کا مستحب ہونا 1151{62} وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب أَخْبَرَنَا :1151 حضرت براء سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ ثَابِتِ بْنِ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہم پسند عُبَيْدِ عَنِ ابْنِ الْبَرَاءِ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ كُنَّا إِذَا کرتے کہ ہم آپ کے دائیں طرف ہوں آپ ہماری صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ طرف چہرہ کرتے وہ کہتے ہیں میں نے آپ کو یہ کہتے وَسَلَّمَ أَحْبَبْنَا أَنْ تَكُونَ عَنْ يَمِينِهِ يُقْبلُ ہوئے سنا اے میرے رب ! مجھے اپنے عذاب سے عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَالَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ رَبِّ قني بچانا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ أَوْ تَجْمَعُ عِبَادَكَ و حَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبِ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا معرسے اسی اسناد سے روایت ہے لیکن انہوں نے حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مِسْتَعْرِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ اس کا ذکر نہیں کیا کہ آپ اپنا چہرہ مبارک ہماری يَذْكُرْ يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهه 1164316421 طرف پھیرتے تھے۔گا۔[9]117 : بَاب كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِي نَافِلَةِ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّن باب : مؤذن کے (اقامت ) شروع کرنے کے بعد نفل شروع کرنے کی نا پسندیدگی 1152 {63} و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَل :1152 حضرت ابو ہریرہ نبی ﷺ سے روایت حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ جب نماز کے لئے وَرْقَاءَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ نہیں۔