صحیح مسلم (جلد سوم)

Page 197 of 373

صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 197

197 كتاب صلاة المسافرين وقصرها فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ الصَّلَاةَ فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ لا رہے اور پھر کہا کہ تیرا بھلا ہو، کیا تم ہمیں نماز کے بارہ أمَّ لَكَ أَتَعَلَّمُنَا بِالصَّلَاةِ وَكُنَّا نَجْمَعُ بَيْنَ میں سکھاؤ گے ؟ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں دو الصَّلَاتَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله نمازیں جمع کر لیا کرتے تھے۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [1637] [7]115: بَاب جَوَازِ الإِنْصِرَافِ مِنَ الصَّلَاةِ عَنِ الْيَمِينِ وَالشِّمَالِ باب: نماز کے بعد دائیں اور بائیں ( دونوں طرف سے واپسی کا جواز 1148{59} حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :1148 حضرت عبد اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ کہ تم میں سے کوئی اپنے نفس میں شیطان کے لئے عُمَارَةَ عَنِ الْأَسْوَد عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ لَا کوئی حصہ نہ بنائے اس طرح کہ وہ سمجھے کہ اس کے يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا لئے ضروری ہے کہ صرف دائیں طرف ہی مڑے۔لَا يَرَى إِلَّا أَنْ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا میں نے تو رسول اللہ ﷺ کو اکثر اپنے بائیں طرف عَنْ يَمِينِهِ أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى مڑتے دیکھا ہے۔اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى جَمِيعًا عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ [1639,1638] 1149{60) وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ حَدَّثَنَا 1149: سُدی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں أَبُو عَوَانَةَ عَنِ السُّدِّيِّ قَالَ سَأَلْتُ أَنسًا نے حضرت انس سے پوچھا کہ جب میں نماز پڑھ كَيْفَ أَنْصَرِفَ إِذَا صَلَّيْتُ عَنْ يَمِينِي أَوْ چکوں تو کس طرف سے جاؤں؟ اپنے دائیں یا اپنے عَنْ يَسَارِي قَالَ أَمَّا أَنَا فَأَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ بائیں طرف سے؟ انہوں نے کہا کہ جہاں تک میرا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ تعلق ہے میں نے تو اکثر رسول اللہ ﷺ کو اپنے دائیں طرف سے ہی جاتے دیکھا ہے۔عَنْ يَمِينِهِ [1640] سفر بارش اور قومی ضروریات کیلئے ظہر و عصر اور مغرب وعشاء جمع کرنا جائز ہے۔صل الله