صحیح مسلم (جلد سوم)

Page 196 of 373

صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 196

196 كتاب صلاة المسافرين وقصرها 1145{56 وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبيع الزَّهْرَانِيُّ :1145 حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرو بن دينار رسول الله ﷺ نے مدینہ میں سات اور آٹھ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدِ عَنِ ابْنِ عَبَّاس أَنْ رَسُولَ (ركعت) ظہر عصر اور مغرب عشاء (جمع کر کے) الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالْمَدِينَةِ پڑھیں۔سَبْعًا وَثَمَانِيَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ [1635] 1146{57) وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ :1146 عبد اللہ بن شقیق سے روایت ہے وہ کہتے کہ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ الزُّبَيْرِ بْن الْخِرِّيتِ عَنْ ایک روز عصر کے بعد حضرت ابن عباس نے ہم سے عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسِ خطاب کیا یہانتک کہ سورج غروب ہو گیا اور ستارے يَوْمًا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ نکل آئے اور لوگ کہنے لگے نماز ! نماز ! راوی کہتے وَبَدَتِ النُّجُومُ وَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ ہیں کہ ان (حضرت عبد اللہ بن عباس) کے پاس بنی الصَّلاةَ الصَّلَاةَ قَالَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تمیم کا ایک شخص آیا جو وقفہ نہیں کرتا تھا اور باز نہیں آتا تَمِيمٍ لَا يَفْتُرُ وَلَا يَنْشِي الصَّلاةَ الصَّلَاةَ فَقَالَ تھا نماز ! نماز ! کے الفاظ کہتا جاتا تھا۔حضرت ابن ابْنُ عَبَّاس أَتُعَلِّمُنِي بِالسُّنَّةِ لَا أُمَّ لَكَ ثُمَّ قَالَ عباس نے کہا کیا تم مجھے سنت سکھاؤ گے ؟ اللہ تمہارا رَأَيْتُ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بھلا کرے پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ظہر و جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ عصر اور مغرب وعشاء جمع کرتے دیکھا ہے۔عبداللہ بن وَالْعِشَاءِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ فَحَاكَ فِي شقیق کہتے ہیں اس بات سے میرے دل میں خلش پیدا صَدْرِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ فَأَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ہوئی۔چنانچہ میں حضرت ابو ہریرہ کے پاس گیا اور ان سے یہ پوچھا تو انہوں نے ان کی بات کی تصدیق کی۔1147(58) وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا :1147 عبد اللہ بن شقیق عقیلی سے روایت ہے وہ وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرِ عَنْ عَبْدِ کہتے ہیں حضرت ابن عباس سے کسی آدمی نے کہا کہ الله بن شقيق الْعُقَيْلِي قَالَ قَالَ رَجُلٌ لابن نماز ! لیکن وہ خاموش رہے۔اس نے کہا نماز ! لیکن عَبَّاسِ الصَّلَاةَ فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ الصَّلَاةَ وہ خاموش رہے۔اس نے کہا نماز لیکن وہ خاموش فَسَأَلْتُهُ فَصَدَّقَ مَقَالَتَهُ [1636]