صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 195
195 كتاب صلاة المسافرين وقصرها غَزْوَةِ تَبُوكَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَبَيْنَ راوی کہتے ہیں کہ انہوں (حضرت معاذ ) نے کہا کہ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ قَالَ فَقُلْتُ مَا حَمَلَهُ آپ نے چاہا کہ اپنی امت پر تنگی نہ ڈالیں۔عَلَى ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ أَرَادَ أَنْ لَا يُخْرِجَ أُمَّتَهُ [1632] 1143{54} وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :1143 حضرت ابن عباس سے روایت ہے وہ کہتے وَأَبُو كُرَيْب قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حو ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ظہر اور عصر نیز حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب وَأَبُو سَعِيد الأَشجُ مغرب اور عشاء بغیر کسی خوف اور بارش کے جمع کر وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْب قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ کے پڑھیں۔وکیع کی روایت میں ہے کہ میں نے كلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي حضرت ابن عباس سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں ثَابِت عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کیا؟ انہوں نے کہا تا کہ آپ اپنی امت پر کوئی تنگی جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ نہ ڈالیں۔ابو معاویہ کی روایت میں (لِمَ فَعَلَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ذَالِک کے بجائے) مَا أَرَاد إِلى ذَالِکَ کے بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ فِي الفاظ ہیں۔حَدِيثٍ وَكِيعِ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسِ لِمَ فَعَلَ ذَلكَ قَالَ كَيْ لَا يُخْرِجَ أُمَّتَهُ وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسِ مَا أَرَادَ إِلَى ذَلِكَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لَا يُخْرِجَ أُمَّتَهُ [1633] 1144{55 وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبي شَيْبَةَ :1144: حضرت ابن عباس سے روایت ہے وہ کہتے حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرُ و عَنْ جَابِرٍ ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ آٹھ رکعتیں زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاس قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ اکٹھی اور سات رکعتیں اکٹھی پڑھیں۔میں نے کہا النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانَيًا جَمِيعًا اے ابو شعثاء ! میرا خیال ہے کہ آپ نے ظہر کو تاخیر وَسَبْعًا جَمِيعًا قُلْتُ يَا أَبَا الشَّعْشَاء أَظُنُّهُ أَخَرَ سے اور عصر کو جلدی پڑھا اسی طرح مغرب کو تاخیر سے الظُّهْرَ وَعَجَلَ الْعَصْرَ وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ اور عشاء کو جلدی۔انہوں نے کہا میرا بھی یہی خیال وَعَجَلَ الْعِشَاءَ قَالَ وَأَنَا أَظُنُّ ذَاكَ [1634] ہے۔