صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 194
194 كتاب صلاة المسافرين وقصرها فَعَلَ ذَلِكَ فَقَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاس كَمَا کہ اپنی امت میں سے کسی کو تنگی میں نہ ڈالیں۔سَأَلْتَنِي فَقَالَ أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمته [1629] 1140{51 وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبيب :1140 حضرت ابن عباس نے بتایا کہ رسول الر الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ نے اس سفر میں جو آپ نے غزوہ تبوک کے لئے حَدَّثَنَا قُوَّةً حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ فرمایا نمازیں جمع فرمائیں۔آپ نے ظہر و عصر اور بْنُ جُبَيْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ مغرب وعشاء اکٹھی پڑھیں۔سعید کہتے ہیں کہ میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاةِ في نے حضرت ابن عباس سے پوچھا کہ آپ کو اس پر سَفْرَة سَافَرَهَا فِي غَزْوَة تَبُوكَ فَجَمَعَ بَيْنَ کس بات نے آمادہ کیا؟ انہوں نے کہا کہ آپ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ قَالَ چاہتے تھے کہ اپنی امت میں سے کسی پر تنگی نہ ڈالیں۔سَعِيدٌ فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ [1630] 521141) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبد الله بن :1141 حضرت معاذ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ کہ ہم رسول اللہ اللہ کے ساتھ غزوہ تبوک کے لئے أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرٍ عَنْ مُعَاذِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ نکلے تو آپ ﷺ ظہر وعصر اور مغرب وعشاء جمع رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي کر کے پڑ۔پڑھتے۔غَزْوَةِ تَبُوكَ فَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا [1631] 1142{53} حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبيب حَدَّثَنَا :1142 : عامر بن واثلہ ابوطفیل کہتے ہیں حضرت خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ معاذ بن جبل نے ہمیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے خالد حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ غزوۂ تبوک کے دوران ظہر و عصر اور مغرب وعشاء وَائِلَةً أَبُو الطُّفَيْلِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلَ قَالَ جمع کیں۔وہ (عامر بن واثلہ ) کہتے ہیں کہ میں جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نے پوچھا کہ آپ کو اس پر کس بات نے آمادہ کیا ؟