صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 193
193 كتاب صلاة المسافرين وقصرها 1137{48} وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَعَمْرُو :1137 حضرت انس نبی ﷺ کے بارہ میں روایت بْنُ سَوَّادٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبِ حَدَّثَنِي کرتے ہیں کہ جب بھی آپ کو سفر کی جلدی ہوتی تو جَابِرُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ آپ ظہر کی نماز کو عصر کے اول وقت تک مؤخر کر شهَابٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ دیتے پھر دونوں کو جمع کر لیتے۔اور مغرب کو مؤخر وَسَلَّمَ إِذَا عَجِلَ عَلَيْهِ السَّفَرُ يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ کر دیتے یہانتک کہ جب شفق غائب ہو جاتی تو اسے إِلَى أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ فَيَجْمَعُ بَيْنَهُما عشاء کے ساتھ جمع کر لیتے۔وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ [1627] [6]114: بَابِ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ باب : حضر میں دو نمازیں جمع کرنا 1138{49} حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ 1138 حضرت ابن عباس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْر عَنْ سَعيد که رسول اللہ ﷺ نے بغیر خوف اور سفر کے ظہر اور بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاس قَالَ صَلَّى رَسُولُ عصر جمع کر کے پڑھیں اور مغرب اور عشاء جمع کر کے الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ پڑھیں۔جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ [1628] 1139{50 وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ :1139 حضرت ابن عباس سے روایت ہے وہ کہتے وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ جَمِيعًا عَنْ زُهَيْرٍ قَالَ ابْنُ ہیں کہ رسل اللہ علیہ نے مدینہ میں بغیر کسی خوف اور يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ سفر کے ظہر اور عصر جمع کر کے پڑھیں۔ابوز بیر کہتے سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاس قَالَ صَلَّی ہیں کہ میں نے سعید سے پوچھا کہ آپ نے ایسا رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهَرَ کیوں کیا ؟ انہوں نے کہا کہ جس طرح تم نے مجھے وَالْعَصْرَ جَمِيعًا بِالْمَدِينَة فِي غَيْرِ خوف سے پوچھا ہے اسی طرح میں نے حضرت ابن عباس وَلَا سَفَرٍ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ فَسَأَلْتُ سَعِيدًا لِمَ سے پوچھا تھا انہوں نے کہا کہ آپ نے ارادہ فرمایا محمد