صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 192
192 كتاب صلاة المسافرين وقصرها 1134{45} وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى :1134: سالم بن عبد اللہ نے بتایا کہ ان کے والد نے أَخْبَرَنَا ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ شهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ کو سفر کی جلدی ہوتی تو آپ مغرب کی نماز میں تاخیر أَبَاهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ فرمالیتے یہانتک کہ اسے عشاء کی نماز کے ساتھ جمع وَسَلَّمَ إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ فِي السَّفَرِ يُؤَخِّرُ کرلیتے۔އރ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ [1624] 1135{46} وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ حَدَّثَنَا :1135 حضرت انس بن مالک سے روایت ہے الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ہے جب زوال آفتاب ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ قَالَ كَانَ سے پہلے سفر پر جاتے تو ظہر کی نماز کو عصر کے وقت رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تک مؤخر فرماتے اور پھر اترتے اور دونوں کو جمع کر ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيعَ الشَّمْسُ أَخَرَ الظُّهَرَ لیتے۔لیکن اگر آپ کے سفر پر جانے سے پہلے إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا فَإِنْ سورج کا زوال ہو جاتا تو ظہر کی نماز پڑھتے پھر سوار زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحلَ صَلَّى ہوتے۔الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ [1625] 1136 {47} وَحَدَّثَنِي عَمْرُو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا 1136: حضرت انس سے روایت ہے وہ کہتے شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارِ الْمَدَائِنِيُّ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ ہیں کہ نبی ﷺ جب سفر میں دو نمازیں جمع کرنے کا سَعْدِ عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ ارادہ فرماتے تو ظہر کو مؤخر کر دیتے یہانتک کہ عصر کا أَنَسِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اوّل وقت ہو جاتا پھر دونوں کو جمع کر لیتے۔إذَا أَرَادَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ أَخَرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَدْخُلَ أَوَّلُ وَقْت الْعَصْرِ ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا [1626]