صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 178
178 كتاب صلاة المسافرين وقصرها کے ساتھ بھی رہا۔انہوں نے دو رکعت سے زائد (نہیں پڑھیں) یہانتک کہ اللہ نے ان کو وفات دے دی۔پھر میں حضرت عثمان کے ساتھ بھی رہا۔انہوں نے بھی دو رکعت سے زائد رکعتیں (نہیں پڑھیں) یہانتک کہ اللہ نے ان کو وفات دے دی اور اللہ فرما چکا ہے ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ ( احزاب : 22) یقینا اللہ کے رسول میں تمہارے لئے نیک نمونہ ہے۔1105{9} حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا :1105: حفص بن عاصم سے روایت ہے وہ کہتے يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ ہیں کہ میں ایک دفعہ بیمار ہوا۔حضرت ابن عمر میری عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ قَالَ مَرِضْتُ مَرَضًا عیادت کے لئے آئے۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ يَعُودُنِي قَالَ وَسَأَلْتُهُ عَن سے سفر میں نفل کے بارہ میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ السُّبْحَةِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ صَحبْتُ رَسُولَ میں سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہا۔میں نے اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَر فَمَا کبھی آپ کو نوافل پڑھتے نہیں دیکھا اور اگر میں رَأَيْتَهُ يُسَبِّحُ وَلَوْ كُنتُ مُسَبِّحًا لَأَثْمَمْتُ نے نوافل پڑھنے ہوتے تو ضرور پوری (نماز) وَقَدْ قَالَ اللهُ تَعَالَى لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي پڑھتا اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ [1580] رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ (احزاب:22 ) يقيناً اللہ کے رسول میں تمہارے لئے نیک نمونہ ہے۔1106{10} حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو 1106 : حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ الرَّبيع الزَّهْرَانِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا نے مدینہ میں ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں اور حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنِي زُهَير ذوالحلیفہ میں عصر کی دورکعتیں پڑھیں۔بْنُ حَرْبٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ