صحیح مسلم (جلد سوم)

Page 172 of 373

صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 172

172 كتاب المساجد و مواضع الصلاة وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ وَكَانَ أَجْوَفَ رسول الله اللہ کے ہمراہ ایک سفر میں تھے۔ہم جَلِيدًا فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بالتَّكْبِيرِ حَتَّى ساری رات چلے یہانتک کہ جب رات کا آخری اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حصہ صبح سے ذرا پہلے کا وقت تھا۔ہم سو گئے اور ایسے لشدَّةِ صَوْته بالتَّكْبِيرِ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ سوئے کہ مسافر کے لئے اس سے زیادہ میٹھی نیند کوئی الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا إِلَيْهِ نہیں۔پھر ہمیں سورج کی تپش نے جگایا۔آگے راوی الَّذِي أَصَابَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى الله نے سلم بن زریر کی روایت کی طرح روایت بیان کی۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا ضَيْرَ ارْتَحلُوا وَاقْتَتصَّ کچھ کمی بیشی کی۔انہوں نے روایت میں بیان کیا کہ جب حضرت عمر بن خطاب بیدار ہوئے اور انہوں نے دیکھا جو لوگوں پر گزری تھی چونکہ آپ بلند آواز والے اور بڑے طاقتور تھے آپ نے تکبیر کہی اور بلند آواز سے تکبیر کہی یہانتک کہ رسول اللہ ہے آپ کی تکبیر میں آواز کی شدت کے باعث بیدار ہو گئے جب رسول اللہ علہ بیدار ہوئے تو انہوں نے آپ کے حضور اس تکلیف کی شکایت کی جو انہیں پہنچی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی ہرج نہیں ، یہاں سے الْحَديثُ [1564,1563] چلو۔اور پوری روایت بیان کی۔1093{313} حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :1093 حضرت ابو قتادہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ کہ جب رسول اللہ عنہ رات کو سفر میں پڑاؤ کرتے سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدِ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ تو اپنے دائیں پہلو پہ لیٹ جاتے اور جب صبح سے عَبْدِ اللَّهِ بْن رَبَاحٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ كَانَ تھوڑی دیر پہلے پڑاؤ کرتے تو اپنے بازو کو کھڑا کر کے رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ اپنا سر اپنی تھیلی پر رکھ لیتے۔فِي سَفَرٍ فَعَرَّسَ بِلَيْلٍ اصْطَجَعَ عَلَى يَمِينِهِ وَإِذَا عَرَّسَ قُبَيْلَ الصُّبْحِ نَصَبَ ذِرَاعَهُ