صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 171
صحیح مسلم جلد سوم 171 كتاب المساجد و مواضع الصلاة الْعُلْيَاوَيْنِ ثُمَّ بَعَثَ بِرَاوِيَتِهَا فَشَرِبْنَا وَنَحْنُ میں ) دریافت فرمایا اس نے آپ کو وہی بتایا جو اس أَرْبَعُونَ رَجُلًا عَطَاشٍ حَتَّى رَوِينَا وَمَلَانا نے ہمیں بتایا تھا۔نیز اس نے آپ کو یہ بتایا کہ وہ كُلٌّ قِرْبَة مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ وَغَسَلْنَا صَاحِبَنَا غَيْرَ موتمہ ہے اس کے یتیم بچے ہیں۔آپ نے اس کے أَنَا لَمْ نَسْقِ بَعِيرًا وَهِيَ تَكَادُ تَنْصَرِجُ مِنَ پانی کے اونٹ کے بارہ میں ارشاد فرمایا تو اس کو بٹھایا الْمَاءِ يَعْنِي الْمَزَادَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ هَاتُوا مَا كَانَ گیا پھر آپ نے دونوں مشکوں کے اوپر مونہوں پر کی عِنْدَكُمْ فَجَمَعْنَا لَهَا مِنْ كِسَرِ وَتَمْرٍ وَصَرَّ کی پھر اس کے پانی والے اونٹ کو کھڑا کر دیا۔پھر ہم لَهَا صُرَّةً فَقَالَ لَهَا اذْهَبي فَأَطْعِمِي هَذَا سب نے پانی پیا اور ہم چالیس پیا سے آدمی تھے۔عيَالَك وَاعْلَمِي أَنَا لَمْ نَرْزُاً مِنْ مَائِكَ فَلَمَّا یہانتک کہ ہم سب سیر ہو گئے۔اور ہم نے اپنے پاس أَتَتْ أَهْلَهَا قَالَتْ لَقَدْ لَقِيتُ أَسْحَرَ الْبَشَرِ موجود ہر مشکیزہ اور چھا گل کو بھر لیا۔اپنے ساتھی کو نسل أَوْ إِنَّهُ لَنَبِيٌّ كَمَا زَعَمَ كَانَ مِنْ أَمْرِهِ ذَيْتَ بھی کروایا البتہ ہم نے اونٹوں کو پانی نہیں پلایا۔وَذَيْتَ فَهَدَى اللَّهُ ذَاكَ الصِّرْمَ بِتِلْكَ قریب تھا کہ اس عورت کی ) دونوں مشکیں پانی سے الْمَرْأَةِ فَأَسْلَمَتْ وَأَسْلَمُوا حَدَّثَنَا إِسْحَقَ پھٹ جاتیں۔پھر آپ نے فرمایا جو کچھ تمہارے پاس بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا النَّصْرُ بْنُ ہے لے آؤ۔چنانچہ ہم نے اس کے لئے (روٹی شمَيْلِ حَدَّثَنَا عَوْفِ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ کے ٹکڑے اور کھجوریں اکٹھی کیں اور آپ نے اس الْأَعْرَابِيُّ عَنْ أَبِي رَجَاءِ الْعُطَارِدِيِّ عَنْ کے لئے ایک گٹھڑی باندھ دی اور اسے فرمایا کہ جاؤ عِمْرَانَ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اور اپنے بچوں کو یہ کھلاؤ لیکن یہ جان لو کہ ہم نے اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَسَرَيْنَا تمہارے پانی میں کچھ کمی نہیں کی۔جب وہ اپنے گھر لَيْلَةً حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخرِ اللَّيْلِ قُبَيْلَ آئی تو کہنے لگی کہ میں انسانوں میں سب سے بڑے الصُّبْحِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ الَّتِي لَا وَقْعَةَ عنْدَ جادوگر سے ملی ہوں یا یقیناً وہ نبی ہے جیسا کہ وہ کہتا الْمُسَافِرِ أَحْلَى مِنْهَا فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ ہے۔(پھر اس نے بتایا کہ ) آپ کے یہ یہ کام تھے۔الشَّمْسِ وَسَاقَ الْحَدِيث بِنَحْوِ حدیث پس اللہ نے اس قبیلہ کی شاخ کو اس عورت کی وجہ سے اللہ سَلْمِ بْنِ زَرِيرِ وَزَادَ وَنَقَصَ وَقَالَ فی ہدایت دی۔وہ عورت مسلمان ہوگئی اور وہ سب لوگ الْحَدِيث فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اسلام لے آئے۔ایک دوسری روایت ہے کہ ہم