صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 170
170 كتاب المساجد و مواضع الصلاة وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ اٹھایا اور سورج کو خوب چمکتا ہوا پایا تو فرمایا کوچ کرو۔حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پھر آپ بھی ہمارے ساتھ چلنے لگے یہانتک کہ جب وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ وَرَأَى الشَّمْسَ قَدْ سورج کی روشنی سفید ہوگئی ، آپ اترے اور ہمیں صبح بَزَغَتْ قَالَ ارْتَحِلُوا فَسَارَ بِنَا حَتَّى إِذَا کی نماز پڑھائی۔لوگوں میں سے ایک آدمی الگ ہو ابْيَضَّتِ الشَّمْسُ نَزَلَ فَصَلَّی بِنَا الْغَدَاةَ گیا۔اس نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔جب فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّ مَعَنَا فَلَمَّا ( حضور ) نماز سے فارغ ہو گئے تو رسول اللہ ہے انْصَرَفَ قَالَ لَهُ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے اسے فرمایا اے فلاں تمہیں ہمارے ساتھ نماز وَسَلَّمَ يَا فَلَانُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَنَا قَالَ پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟ اس نے عرض کیا اے يَا نَبِيَّ الله أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللہ کے نبی! مجھے جنابت ہو گئی تھی تو رسول اللہ علے الله صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَيَمَّمَ بِالصَّعِيدِ نے اسے ارشاد فرمایا تو اس نے مٹی سے تیتم کیا اور نماز فَصَلَّى ثُمَّ عَجَّلَنِي فِي رَكْبَ بَيْنَ يَدَيْهِ پڑھی پھر آپ نے مجھے چند سواروں کے ساتھ فوری تَطْلُبُ الْمَاءَ وَقَدْ عَطِشَنَا عَطَشَا شَدِيدًا طور پر پانی کی تلاش میں آگے جانے کا ارشاد فرمایا۔فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةِ سَادِلَةِ ہمیں بہت شدید پیاس لگی ہوئی تھی۔اسی اثناء میں کہ رِجْلَيْهَا بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ فَقُلْنَا لَهَا أَيْنَ الْمَاءُ ہم جارہے تھے کہ اچانک ہم نے ایک عورت دیکھی جو قَالَتْ أَيْهَاهُ أَيْهَاهُ لَا مَاءً لَكُمْ قُلْنَا فَكَمْ بَيْنَ اپنے پاؤں کو دو بڑی مشکوں کے درمیان لٹکائے أَهْلِكِ وَبَيْنَ الْمَاءِ قَالَتْ مَسِيرَةُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ (بیٹھی تھی۔ہم نے اس سے پوچھا کہ پانی کہاں قُلْنَا الطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ ہے؟ اس نے کہا ہائے ہائے تمہیں پانی نہیں مل سکتا۔ہم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ وَمَا رَسُولُ الله فَلَمْ نے کہا تمہارے اہل اور پانی کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ تملكها مِنْ أَمْرِهَا شَيْئًا حَتَّى انْطَلَقْنَا تُمَلِّكْهَا بھا اس نے کہا ایک دن رات کا سفر ہے۔ہم نے کہا کہ فَاسْتَقْبَلْنَا بِهَا رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رسول الله ﷺ کے پاس چلو اس نے کہا کہ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا فَأَحْبَرَتْهُ مِثْلَ الَّذِي أَخْبَرَنَا رسول الله کون؟ ہم نے اس کی مرضی نہ چلنے دی۔ہم وَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا مُوتِمَةٌ لَهَا صِبْيَانَ أَيْتَامٌ فَأَمَرَ اس کو لے کر چلے اور ہم اسے رسول اللہ ﷺ کے بِرَاوِيَتِهَا فَأَنِيحَتْ فَمَجَّ فِي الْعَزْلَاوَيْنِ پاس لے آئے۔آپ نے اس سے (پانی کے بارہ