صحیح مسلم (جلد سوم)

Page 169 of 373

صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 169

169 كتاب المساجد و مواضع الصلاة جامع مسجد میں بیان کر رہا تھا جب حضرت عمران بن حصین نے کہا اے جوان! تم کیا کہتے ہو، میں بھی اس رات ان سواروں میں سے ایک تھا۔وہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ آپ اس حدیث کے بارہ میں زیادہ جانتے ہوں گے۔پھر انہوں نے پوچھا کہ تم کس قوم سے ہو؟ میں نے کہا انصار میں سے۔انہوں نے کہا کہ پھر بیان کرو تم لوگ اپنی روایتوں کو زیادہ جانتے ہو۔وہ کہتے ہیں پھر میں نے لوگوں کو روایت بتائی۔حضرت عمران کہنے لگے کہ میں بھی اس رات موجود تھا لیکن میرا خیال نہیں تھا کہ جس طرح تم نے اس (حدیث) کو یا درکھا ہے اس طرح کسی نے اسے یادرکھا ہو۔1092 (312) وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ :1092: حضرت عمران بن حصین سے روایت ہے وہ صَحْرِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے ہمراہ ایک سفر میں تھا الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرِ الْعُطَارِدِيُّ ہم ساری رات چلتے رہے یہانتک کہ جب صبح قَالَ سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءِ الْعُطَارِدِيَّ عَنْ قریب ہوئی تو ہم نے پڑاؤ کیا اور ہماری آنکھ لگ گئی عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنِ قَالَ كُنتُ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ یہانتک کہ سورج چمکنے لگا (راوی) کہتے ہیں کہ ہم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسيرٍ لَهُ فَأَدْلَجْنَا میں سے سب سے پہلے جو نیند سے بیدار ہوئے وہ لَيْلَتَنَا حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ عَرَّمْنَا حضرت ابو بکر تھے۔اور ہم نبی ﷺ کو جب آپ فَغَلَبَتْنَا أَعْيُنُنَا حَتَّى بَزَغَتِ الشَّمْسُ قَالَ سو جاتے آپ کی نیند سے جگایا نہیں کرتے تھے جب فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنَّا أَبُو بَكْرٍ وَكُنَّا لا تک کہ آپ خود بیدار نہ ہو جائیں۔پھر حضرت عمرؓ تُوقِظُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بیدار ہوئے اور نبی ﷺ کے پاس کھڑے ہو کر تکبیر مَنَامِهِ إِذَا نَامَ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ کہنے لگے اور بلند آواز سے تکبیر کہنے لگے۔یہانتک عُمَرُ فَقَامَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ که رسول اللہ علہ بیدار ہو گئے۔جب آپ نے سر