صحیح مسلم (جلد سوم)

Page 166 of 373

صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 166

166 كتاب المساجد و مواضع الصلاة إِذَا أَشَدُّ حَتَّى۔اعْتَدَلَ عَلَى رَاحِلَتِهِ قَالَ ثُمَّ سَارَ حَتَّی ہو کر بیٹھ گئے۔وہ کہتے ہیں پھر آپ چلتے گئے یہانتک کہ كَانَ مِنْ آخِرِ السَّحَرِ مَالَ مَيْلَةً هِيَ سحر کا آخری حصہ آگیا تو آپ پہلی دونوں مرتبہ سے بھی مِنَ الْمَيْلَتَيْنِ الْأُولَيْنِ حَتَّى كَادَ زیادہ جھک گئے یہانتک کہ قریب تھا کہ آپ مُڑ کر گرنہ يَنْجَفِلُ فَأَتَيْتُهُ فَدَعَمْتُهُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ مَنْ جائیں۔میں آپ کے پاس پہنچا اور آپ کو سہارا دیا۔هَذَا قُلْتُ أَبُو قَتَادَةَ قَالَ مَتَى كَانَ هَذَا چنانچہ آپ نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا کون ہے؟ میں نے مَسيرَكَ مِنِّي قُلْتُ مَا زَالَ هَذَا مَسِيرِي مُنْذُ عرض کیا ابو قتادہ۔آپ نے پوچھا کہ تم کب سے یوں اللَّيْلَة قَالَ حَفِظَكَ اللهُ بمَا حَفِظت به نَبيَّهُ میرے ساتھ چل رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ رات ثُمَّ قَالَ هَلْ تَرَانَا نَخْفَى عَلَى النَّاسِ ثُمَّ قَالَ سے میں آپ کے ساتھ چل رہا ہوں۔آپ نے فرمایا اللہ هَلْ تَرَى مِنْ أَحَدٍ قُلْتُ هَذَا رَاكِبٌ ثُمَّ تمہاری حفاظت کرے جس طرح تم نے اس کے نبی کی قُلْتُ هَذَا رَاكِبٌ آخَرُ حَتَّى اجْتَمَعْنَا فَكُنَّا حفاظت کی۔پھر آپ نے فرمایا کہ کیا تم ہمیں دیکھتے ہو سَبْعَةَ رَكْب قَالَ فَمَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّی کہ ہم لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں۔پھر آپ نے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن الطَّرِيقِ فَوَضَعَ رَأْسَهُ پوچھا کہ کیا تم کسی کو دیکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ یہ ثُمَّ قَالَ احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا فَكَانَ أَوَّلَ ایک سوار ہے۔پھر میں نے عرض کیا کہ یہ ایک اور سوار اسْتَيْقَظَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہے۔یہانتک کہ ہم جمع ہوئے اور ہم سات سوار تھے وہ وَسَلَّمَ وَالشَّمْسُ فِي ظَهْرِهِ قَالَ فَقُمْنَا کہتے ہیں۔پھر رسول اللہ علیہ راستہ سے ایک طرف ہو فَزِعِينَ ثُمَّ قَالَ ارْكَبُوا فَرَكِبْنَا فَسِرْنَا حَتَّی گئے۔پھر آپ نے اپنا سر رکھا اور فرمایا کہ ہماری نماز کا مَن إذَا ا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ نَزَلَ ثُمَّ دَعَا بِمِيضَأَة خيال رکھنا۔ہم میں سے سب سے پہلے رسول اللہ ا مَعِي فِيهَا شَيْءٌ مَنْ مَاءِ قَالَ فَتَوَضَّاً بیدار ہوئے اور دھوپ آپ کی پشت پر تھی۔وہ کہتے ہیں مِنْهَا وُضُوعاً دُونَ وُضُوءِ قَالَ وَبَقِيَ فِيهَا ہم گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے۔پھر آپ نے فرمایا کہ سوار شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ قَالَ لأَبي قَتَادَةَ احْفَظ ہو جاؤ۔پھر ہم سوار ہو کر چلنے لگے یہانتک کہ سورج بلند عَلَيْنَا مَيضَأَتَكَ فَسَيَكُونُ لَهَا نَبَأُ ثُمَّ أَذَّنَ ہو گیا تو آپ ( سواری سے ) نیچے اترے۔پھر آپ نے بلَالُ بالصَّلَاةِ فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ وضوء کا برتن منگوایا جو میرے پاس تھا اور اس میں کچھ پانی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى الْغَدَاةَ فَصَنَعَ تھا۔وہ کہتے ہیں پھر آپ نے ہلکا سا وضوء کیا۔وہ کہتے ہیں