صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 165
صحیح مسلم جلد سوم 165 كتاب المساجد ومواضع الصلاة حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ہوا۔تب نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہر ایک آدمی کو چاہیے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ عَرَّسَنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ کہ وہ اپنی سواری کو اس کے سر سے پکڑ کر لے جائے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَستَيْقِظُ حَتَّی کیونکہ اس پڑاؤ کی جگہ پر شیطان آموجود ہوا۔وہ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله کہتے ہیں کہ ہم نے ایسا ہی کیا۔پھر آپ نے پانی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ منگوایا اور وضوء کیا۔پھر دو رکعتیں پڑھیں۔یعقوب فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ قَالَ نے (سَجَدَ سَجْدَتَين کے بجائے) صَلَّى سَجْدَ تَينِ فَفَعَلْنَا ثُمَّ دَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَجَدَ کے الفاظ کہے ( تو کہا)۔پھر اقامت کہی گئی اور آپ سَجْدَتَيْنِ وَقَالَ يَعْقُوبُ ثُمَّ صَلَّى سَجدَتَيْنِ نے صبح کی نماز پڑھائی۔ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْغَدَاةَ [1561] 3111091} و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوحَ :1091 حضرت ابو قتادہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَة حَدَّثَنَا رسول اللہ ﷺ نے ہم سے خطاب فرمایا اور ارشاد کیا ثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ کہ تم اپنی ساری شام اور ساری رات چلو گے اور کل قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انشاء اللہ پانی تک پہنچ جاؤ گے۔لوگ اس طرح چلے کہ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّكُمْ تَسِيرُونَ عَشِيَّتَكُمْ کوئی کسی کی طرف متوجہ نہ ہوا۔حضرت ابو قتادہ کہتے وَلَيْلَتَكُمْ وَتَأْتُونَ الْمَاءَ إِنْ شَاءَ اللهُ غَدًا ہیں کہ رسول اللہ ملتے جلتے جاتے تھے یہانتک کہ آدھی فَانْطَلَقَ النَّاسُ لَا يَلْوِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ قَالَ رات گزرگئی اور میں آپ کے پہلو میں تھا۔وہ کہتے ہیں أَبو قَتَادَةَ فَبَيْنَمَا رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہ رسول اللہ ﷺ کو اونگھ آئی تو آپ اپنی سواری پر (ایک وَسَلَّمَ يَسِيرُ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ وَأَنَا إِلَى جَنْبه طرف جھک گئے۔میں آپ کے پاس گیا تو میں نے قَالَ فَنَعَسَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آپ کو جگائے بغیر سہارا دیا یہانتک کہ آپ ٹھیک ہوکر وَسَلَّمَ فَمَالَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَأَتَيْتُهُ فَدَعَمْتُهُ من اپنی سواری پر بیٹھ گئے۔پھر آپ چلتے گئے یہانتک کہ اکثر غَيْرِ أَنْ أُوقِطَهُ حَتَّى اعْتَدَلَ عَلَى رَاحِلَته رات گزرگئی۔( آپ پھر اونگھ کے باعث ) اپنی سواری پر قَالَ ثُمَّ سَارَ حَتَّى تَهَوَّرَ اللَّيْلُ مَالَ عَنْ جھک گئے۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے پھر آپ کو بغیر رَاحِلَتِهِ قَالَ فَدَعَمْتُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ أُوقِظَهُ جگائے سہارا دیا یہانتک کہ آپ پھر اپنی سواری پر ٹھیک