صحیح مسلم (جلد سوم)

Page 6 of 373

صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 6

صحیح مسلم جلد سوم 6 كتاب المساجد و مواضع الصلاة وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ بھیڑ بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے۔پھر أَبي أَيُّوبَ قَالَ فَكَانَ رَسُولُ الله صَلَّی آپ نے مسجد ( کی تعمیر ) کا ارشاد فرمایا۔وہ کہتے ہیں اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ کہ پھر آپ نے بنی نجار کے سرداروں کو بلایا۔وہ الصَّلَاةُ وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ثُمَّ إِنَّهُ آئے تو آپ نے فرمایا اے بنی نجار ! اپنے اس احاطہ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَى مَلَا بَنِي کی قیمت مجھ سے طے کر لو۔انہوں نے عرض کیا نہیں النَّجَّارِ فَجَاءَوا فَقَالَ يَا بَنِي النَّجَّار نہیں، اللہ کی قسم ! ہم صرف اللہ سے اس کی قیمت کے ثَامِنُونِي بِحَائِطكُمْ هَذَا قَالُوا لَا وَالله لَا طلبگار ہیں۔حضرت انس کہتے ہیں اس میں جو کچھ تھا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللهِ قَالَ أَنَسٌ فَكَانَ میں بتاتا ہوں اس میں کھجور کے درخت تھے اور فِيهِ مَا أَقُولُ كَانَ فيه نَحْل وَقُبُورُ مشرکوں کی کچھ (پرانی ) قبریں تھیں اور کھنڈرات بھی الْمُشْرِكِينَ وَخِرَبْ فَأَمَرَ رَسُولُ الله صَلَّى تھے۔پس رسول اللہ ﷺ نے کھجور کے درختوں کے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّحْلِ فَقُطِعَ وَبِقَبُورِ بارہ میں ارشاد فرمایا تو وہ کاٹ دیئے گئے اور الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ وَبِالْخَرِبِ فَسُويَتْ مشرکوں کی قبروں کے بارہ میں (ارشاد فرمایا ) تو وہ قَالَ فَصَفُوا النَّحْلَ قِبْلَةً وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ کھودی گئیں اور کھنڈرات کے بارہ میں ارشاد حِجَارَةً قَالَ فَكَانُوا يَرْتَجزُونَ وَرَسُولُ فرمایا تو وہ برابر کر دیئے گئے۔وہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے کھجور کے درختوں کو قطار میں قبلہ کی الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَة جانب لگا دیا اور اس کے دونوں پہلوؤں میں پتھر فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَة [1173] لگا دیئے۔وہ کہتے ہیں کہ وہ (صحابہ) رجز پڑھتے تھے اور رسول اللہ علیہ ان کے ساتھ تھے اور وہ کہتے تھے اے اللہ ! بھلائی تو صرف آخرت کی بھلائی ہے پس تو انصار اور مہاجرین کی نصرت فرما۔معلوم ہوتا ہے کہ ان کو دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا۔سیرۃ الحلبیہ کی عبارت سے بھی ایسا مترشح ہوتا ہے واللہ اعلم ہر حال یہ احاطہ با قاعدہ قبرستان نہیں تھا۔