صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 148
صحیح مسلم جلد سوم 148 كتاب المساجد و مواضع الصلاة جنب المسجد إلى أُريدُ أَنْ يُكتب لي کرے گی کہ میرا گھر مسجد کے پہلو میں ہو۔میں چاہتا مَمْشَايَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرُجُوعِي إِذَا ہوں کہ میرا مسجد چل کر آنا اور واپس جانا جب میں رَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اپنے اہل کی طرف واپس آؤں لکھا جائے۔اس پر اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَمَعَ اللهُ لَكَ ذَلكَ رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے یہ سارا (اجر) كُلَّهُ و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا تمہارے لئے اکٹھا کر دیا ہے۔الْمُعْتَمِرُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ كِلَاهُمَا عَنِ التَّيْمِيُّ بِهَذَا الإسناد بنحوه [1515,1514] 1058 {۔۔۔} حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ :1058: حضرت ابی بن کعب سے روایت ہے وہ کہتے الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادِ حَدَّثَنَا ہیں انصار میں سے ایک شخص تھا جس کا گھر مدینہ میں عَاصِمٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبِ ) مسجد نبوی سے ) سب سے دور تھا۔لیکن اس کی کوئی قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بَيْتُهُ أَقْصَى نماز رسول الله عے کے ساتھ فوت نہ ہوتی تھی۔وہ بَيْتَ فِي الْمَدِينَةِ فَكَانَ لَا تُخطتُهُ الصَّلَاةُ کہتے ہیں ہمیں اس کی تکلیف کا احساس ہوا تو میں مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نے اس سے کہا اے فلاں ! تم کوئی گدھا کیوں نہیں فَتَوَجَّعْنَا لَهُ فَقُلْتُ لَهُ يَا فُلَانُ لَوْ أَنَّكَ خرید لیتے جو تمہیں گرمی کی شدت اور زمین کے اشْتَرَيْتَ حِمَارًا يَقِيكَ مِنَ الرَّمْضَاءِ کیڑے مکوڑوں سے بچائے۔وہ کہنے لگا سنو ! خدا وَيَقِيكَ مِنْ هَوَامُ الْأَرْضِ قَالَ أَمَ وَاللَّهِ مَا کی قسم میں تو یہ بھی نہیں چاہتا کہ میرا گھر محمد علے أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي مُطَنَّبٌ بَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّی کے گھر کے ساتھ جڑا ہوا ہو۔وہ کہتے ہیں کہ مجھ پر یہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَحَمَلْتُ به حَمْلا بات گراں گذری اور میں اللہ کے نبی ﷺ کی حَتَّى أَتَيْتُ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو ( یہ بات بتائی۔وہ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَدَعَاهُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذلكَ کہتے ہیں آپ نے اسے بلایا تو اس نے وہی بات کی وَذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ يَرْجُو فِي أَثَرِهِ الْأَجْرَ فَقَالَ لَهُ اور آپ سے ذکر کیا کہ وہ اپنے ایک ایک نشان صلى الله النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لَكَ مَا (قدم) پر اجر کا امیدوار ہے۔اس پر نبی ﷺ نے