صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 141
صحیح مسلم جلد سوم 141 كتاب المساجد و مواضع الصلاة بْنُ مَالِكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَصَرِي گئے کہ اب حکم اترنا بند ہو گئے ہیں پس اب اگر کوئی [1498,1497,1496] قَدْ سَاءَ وَسَاقَ الْحَدِيث إِلَى قَوْلِهِ فَصَلَّى بنا دھوکہ نہ کھانا چاہے تو نہ کھائے۔رَكْعَتَيْنِ وَحَبَسنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اوزاعی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے زہری وَسَلَّمَ عَلَى جَشِيشَة صَنَعْنَاهَا لَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ نے حضرت محمود بن ربیع سے روایت کرتے ہوئے مَا بَعْدَهُ مِنْ زِيَادَةِ يُونُسَ وَمَعْمَرٍ بتایا کہ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ علہ نے ہمارے گھر میں ایک ڈول سے کلی کی تھی۔محمود نے کہا کہ مجھے حضرت عتبان بن مالک نے بتایا کہ انہوں نے کہا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میری نظر خراب ہو گئی ہے۔آگے ( راوی نے ) ان کے اس قول تک روایت بیان کی کہ آپ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر ہم نے رسول اللہ ﷺ کو ایک جشیشہ کے لئے جسے ہم نے آپ کے لئے تیار کیا تھا روک لیا۔[48]101: بَاب جَوَازِ الْجَمَاعَة فِي النَّافِلَةِ وَالصَّلَاةِ عَلَى حَصِيرٍ وَعُمْرَةِ وَثَوْبِ وَغَيْرِهَا مِنَ الطَّاهِرَاتِ ہے باب نفل نماز میں جماعت کا جواز اور چٹائی اور اوڑھنی اور کپڑے وغیرہ پاک چیزوں پر نماز کا جواز 2661045} حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ :1045: حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ عَنْ إِسْحَقَ بنِ عَبْدِ الله ان کی دادی ملیکہ نے رسول اللہ ﷺ کو کھانے پر بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ أَنْ جَدَّتَهُ بُلایا۔جو انہوں نے تیار کیا تھا۔آپ نے اس میں مُلَيْكَةً دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سے کھایا اور فرمایا اٹھو۔میں تمہیں نماز پڑھاتا وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ ہوں۔حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ میں اپنی