صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 134
صحیح مسلم جلد سوم 134 كتاب المساجد و مواضع الصلاة الْفَزَارِيِّ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ عَنْ کوئی لے جانے والا نہیں ہے۔جو مجھے مسجد لے عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْأَصَمِّ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ جائے اور اس نے رسول اللہ علیہ سے اپنے گھر میں الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى نماز پڑھنے کے لئے رخصت طلب کی۔آپ نے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ أَعْمَى فَقَالَ يَا رَسُولَ اسے اجازت دے دی۔جب وہ واپس جانے کے اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدُ يَقُودُنِي إِلَى الْمَسْجِدِ لئے مُڑا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا کہ کیا تمہیں فَسَأَلَ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذان کی آواز آتی ہے؟ اس نے عرض کیا جی ہاں۔تو أَنْ يُرَحْصَ لَهُ فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ فَرَحْصَ لَهُ آپ نے فرمایا کہ پھر اس کی تعمیل کرو۔فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ فَقَالَ هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَجِبْ [1486] 971441: بَاب صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى باب : جماعت کے ساتھ نماز ہدایت کے طریقوں میں سے ہے 2561037) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْر بن أَبي شَيْبَةَ 1037: ابو الاحوص سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشَرِ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا حضرت عبداللہ نے کہا ہم نے اپنے تئیں دیکھا کہ زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ہم میں سے سوائے منافق کے جس کا نفاق معلوم بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ قَالَ عَبْدُ ہوتا کوئی نماز سے پیچھے نہیں یا پھر مریض بلکہ مریض الله لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَن الصَّلَاةِ إِلا بھی دو آدمیوں کے درمیان سہارے سے چل کر مُنَافِقٌ قَدْ عُلِمَ نِفَاقُهُ أَوْ مَرِيضٌ إِنْ كَانَ آتا اور نماز میں شامل ہوتا اور انہوں نے کہا کہ الْمَرِيضُ لَيَمْشِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ حَتَّى يَأْتِيَ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ہدایت کے طریقے سکھائے الصَّلَاةَ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ الله صَلَّى الله اور ہدایت کے طریقوں میں سے ایک اس مسجد میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَنَا سُنَنَ الْهُدَى وَإِنْ مِنْ نماز پڑھنا بھی ہے جس میں اذان دی جائے۔سُنَن الْهُدَى الصَّلَاةَ فِي الْمَسجد الذي يُؤَذِّنُ فِيهِ [1487]