صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 127
صحیح مسلم جلد سوم 127 كتاب المساجد و مواضع الصلاة 1021 (240) وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبي شَيْبَةَ :1021 حضرت ابو ذر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبي کہ میرے دوست علی نے مجھے وصیت فرمائی کہ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرِّ میں سنوں اور اطاعت کروں اگر چہ وہ غلام ہی کیوں قَالَ إِنَّ خَلِيلِي أَوْصَانِي أَنْ أَسْمَعَ وَأَطِيعَ نہ ہو جس کے ہاتھ پاؤں کٹے ہوئے ہوں اور یہ کہ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا مُجَمَّعَ الْأَطْرَافِ وَأَنْ أَصَلِّيَ میں نماز اس کے وقت پر ادا کروں۔اگر تم لوگوں الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتَ الْقَوْمَ وَقَدْ کو دیکھو کہ وہ نماز پڑھ چکے ہیں تو تم نے اپنی نماز صَلَّوْا كُنتَ قَدْ أَخْرَزْتَ صَلَاتَكَ وَإِلَّا كَانَت بچالی بصورت دیگر وہ تمہارے لئے نفل ہو جائے گی۔لَكَ نَافِلَةً [1467] 2411022 و حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ 1022 حضرت ابو ذر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا کہ رسول اللہ ﷺ نے میری ران پر ہاتھ مارتے شُعْبَةُ عَنْ بُدَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ ہوئے فرمایا کہ تمہارا کیا حال ہو گا جب تم ایسے لوگوں يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي میں رہ جاؤ گے جو نماز اس کے وقت سے تاخیر کر کے ذَرْ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پڑھیں گے۔راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا وَسَلَّمَ وَضَرَبَ فَخِذِي كَيْفَ أَنتَ إِذَا کہ آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ نماز بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا اس کے وقت پر ادا کرو پھر اپنے کام کے لئے جاؤ۔قَالَ قَالَ مَا تَأْمُرُ قَالَ صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ثُمَّ پھر اگر نماز کھڑی کی جائے اور تم مسجد میں ہو تو نماز اذْهَبْ لِحَاجَتِكَ فَإِنْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ پڑھ لو۔وَأَنْتَ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلِّ [1468] 1023{242) وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْب :1023 ابو العالیہ البراء کہتے ہیں کہ ابن زیاد نے نماز : حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ تاخیر سے پڑھائی تو میرے پاس حضرت عبداللہ بن أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ قَالَ أَخَرَ ابْنُ زِيَادِ الصَّلَاةَ صامت آئے۔میں نے ان کے لئے کرسی رکھی اور وہ فَجَاءَنِي عَبْدُ الله بْنُ الصَّامِتِ فَالْقَيْتُ لَهُ اس پر بیٹھ گئے تو میں نے ان کے سامنے ابن زیاد کے كُرْسِيًّا فَجَلَسَ عَلَيْهِ فَذَكَرْتُ لَهُ صَنِيعَ ابْنِ فعل کا ذکر کیا تو وہ اپنے ہونٹ چہانے لگے اور میری