صحیح مسلم (جلد سوم)

Page 125 of 373

صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 125

125 كتاب المساجد و مواضع الصلاة سے ملا تو ان سے پوچھا انہوں نے کہا کہ آپ صبح ( کی نماز پڑھتے اور آدمی فارغ ہوتا اور اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے چہرے کو دیکھتا جس کو وہ جانتا ہوتا تو اس کو پہچان لیتا انہوں نے کہا کہ آپ اس میں ساٹھ سے سو آیات ) تک تلاوت فرماتے تھے۔2361017} حَدَّثَنَا عُبَيْدُ الله بْنُ مُعَاذ :1017 حضرت ابو برزہ بیان کرتے ہیں کہ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَيَّارَ بْن سَلَامَةً رسول اللہ ﷺ آدھی رات تک نماز عشاء میں کسی قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ قدر تاخیر کی پرواہ نہ فرماتے اور نہ آپ اس سے قبل الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَالِي بَعْضَ نیند پسند فرماتے اور نہ ہی اس کے بعد باتیں کرنا۔تأخير صَلَاة العشاء إلى نصف اللَّيْلِ شعبہ کہتے ہیں کہ پھر ایک دفعہ اور میں ان (سیار بن وَكَانَ لَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلَا الْحَدِيث سلامہ) سے ملا تو انہوں نے کہا کہ 'یارات کے ایک بَعْدَهَا قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ لَقِيتُهُ مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ تہائی حصہ تک“۔أَوْ ثُلث اللَّيْلِ [1463] 1018{237} وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْب حَدَّثَنَا :1018 حضرت ابو برزہ اسلمی بیان کرتے ہیں سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ رسول الله علہ عشاء رات کے ایک تہائی حصہ تک عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ أَبِي الْمِنْهَالِ قَالَ تاخیر سے پڑھ لیتے اور اس سے قبل سونا اور اس کے سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ بعد باتیں کرنا نا پسند فرماتے اور آپ فجر کی نماز میں الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ إِلَى سوسے ساتھ ( آیات ) تک تلاوت فرماتے اور اس ثلث اللَّيْل وَيَكْرَهُ التَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ وقت نماز سے فارغ ہوتے جب ہم ایک دوسرے کا بَعْدَهَا وَكَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنَ الْمَائَةِ چہرہ پہچانے لگتے۔إِلَى السِّيِّينَ وَكَانَ يَنْصَرِفُ حِينَ يَعْرِفُ بَعْضُنَا وَجْهَ بَعْضٍ [1464]