صحیح مسلم (جلد سوم)

Page 122 of 373

صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 122

122 كتاب المساجد و مواضع الصلاة [40]93 بَاب اسْتِحْبَاب التَّبْكِيرِ بِالصُّبْحِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا وَهُوَ التَّغْلِيسُ وَبَيَانِ قَدْرِ الْقِرَاءَةِ فِيهَا اول وقت میں جبکہ ابھی جھٹ بچھا ہوتا ہے صبح کی نماز جلدی ادا کرنے کے پسندیدہ ہونے اور اس میں قراءت کی مقدار کا بیان 1012{230} حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :1012 حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ مومن وَعَمْرُو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبِ كُلُّهُمْ عَنْ عورتیں صبح کی نماز نبی ﷺ کے ساتھ پڑھا کرتی سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ عَمْرُو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ تھیں پھر اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی واپس جاتیں بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ کوئی انہیں پہچان نہ سکتا تھا۔عَائِشَةَ أَنْ نِسَاءَ الْمُؤْمِنَاتِ كُنَّ يُصَلِّينَ الصُّبْحَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَرْجِعْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ لَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ [1457] 1013{231) وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى 1013 : بي ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ فرماتی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبِ أَخْبَرَنِي يُونُسُ أَنَّ ابْنَ ہیں کہ مومن عورتیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنی شهَابٍ أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ چادروں میں لپٹی ہوئی فجر میں حاضر ہوتیں پھر أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ واپس اپنے گھروں کو جاتیں تو رسول اللہ لے کے قَالَتْ لَقَدْ كَانَ نِسَاء مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ يَشْهَدْنَ جُھٹ پٹے کے وقت نماز پڑھانے کی وجہ سے پہچانی الْفَجْرَ مَعَ رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نہ جائیں۔مُتَلَفِّعَات بمُرُوطهنَّ ثُمَّ يَنْقَلَبْنَ إِلَى بُيُوتِهِنَّ و الله مَا يُعْرَفْنَ مِنْ تَعْلِيسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ [1458] ہی فلس سے مراد روشنی اور اندھیرے کے ملنے کا وقت ہے غالبا اس کو جھٹپٹا کہتے ہیں۔صلى الله