صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 121
صحیح مسلم جلد سوم 121 كتاب المساجد و مواضع الصلاة 1009 (227) وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ وَأَبُو :1009 حضرت جابر بن سمرہ سے روایت ہے وہ کہتے كَامِلِ الْجَحْدَرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تمہاری نماز کی طرح ہی سَمَاكَ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ نمازیں پڑھا کرتے تھے لیکن نماز عشاء تمہاری نماز الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ سے کچھ دیر بعد ادا فرماتے تھے۔اور آپ نماز مختصر تحوا مِنْ صَلَاتِكُمْ وَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَتَمَةَ بَعْدَ پڑھاتے۔صَلَاتِكُمْ شَيْئًا وَكَانَ يُحِفُ الصَّلَاةَ وَفِي ابو کامل کی روایت میں يُخف کی بجائے يُخَفِّفُ کا رِوَايَةِ أَبِي كَامِل يُخَفِّفُ [1454] لفظ ہے۔2281010 وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبِ :1010 حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے وہ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے عُبَيْنَةَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ ہوئے سنا ہے کہ بدوی لوگ نماز کے نام کے بارہ میں عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ تمہیں مغلوب نہ کر دیں کیونکہ وہ اونٹوں کے دودھ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَعْلَبَنَّكُمُ دوھنے میں تاخیر کیا کرتے ہیں اس لئے (عشاء کو الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ أَلَا صَلَاتِكُمْ أَلَا إِنَّهَا عتمہ کہتے ہیں ) سنو! یہ عشاء ہے۔الْعِشَاءُ وَهُمْ يُعْتَمُونَ بالابل [1455] 2291011 وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي :1011 حضرت ابن عمر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ که رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بدوی لوگ تمہاری الله بْن أَبِي لَبِيد عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ نماز عشاء کے نام کے بارہ میں تم پر غالب نہ الرَّحْمَنِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ آجائیں۔یہ اللہ کی کتاب میں عشاء ہے اور وہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَعْلَبَنَّكُمُ اونٹوں کے دودھ دوہنے میں اندھیرا (عتمہ) الْأَعْرَابُ عَلَى اسْم صَلَاتِكُمُ الْعِشَاءِ فَإِنَّهَا کردیتے ہیں (اس لئے عتمہ کا لفظ بولتے ہیں)۔فِي كِتَابِ اللَّهِ الْعِشَاءُ وَإِنَّهَا تُعْتِمُ بِحِلَابِ الإبل [1456]