صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 120
حیح مسلم جلد سوم 120 كتاب المساجد و مواضع الصلاة الرَّأْسِ حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامُهُ طَرَفَ الْأُذُنِ مِمَّا بتایا۔چنانچہ عطاء نے مجھے بتانے کے لئے اپنی انگلیوں يَلِي الْوَجْهَ ثُمَّ عَلَى الصُّدْغِ وَنَاحِيَةِ اللَّحْيَةِ میں فاصلہ رکھ کر ان کے کناروں کو سر کے ایک جانب قَصْرُ وَلَا يَبْطِشُ بِشَيْءٍ إِلَّا كَذَلِكَ قُلْتُ رکھ کر سر پر سے اس طرح گزارا یہانتک کہ ان کا انگوٹھا لِعَطَاءٍ كَمْ ذُكِرَ لَكَ أَخَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ کان کے اس کنارہ کو چھونے لگا جو منہ کے قریب ہے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَندَ قَالَ لَا أَدْرِي قَالَ عَطَاء پھر کن پٹی اور داڑھی کے قریب تک لائے۔آپ نہ تو أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصَلَّيْهَا إِمَامًا وَحَلْوا مُوَخَرَةً کمی کرتے اور نہ ہی جلدی کرتے بلکہ اس طرح كَمَا صَلَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کرتے (جیسے بتایا گیا)۔میں نے عطاء سے پوچھا کہ لَيْلَتَند فَإِنْ شَقَّ عَلَيْكَ ذَلكَ خَلْمًا أَوْ عَلَى آپ کو کیا بتایا گیا کہ نبی ﷺ نے اس رات (نماز الْجَمَاعَةِ وَأَنْتَ إِمَامُهُمْ فَصَلِّهَا میں کتنی تا خیر فرمائی؟ انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں الناس في وَسَطًا لَا مُعَجَّلَةٌ وَلَا مُؤَخَّرَةً [1452] پتہ۔عطاء نے کہا کہ مجھے تو یہی زیادہ پسند ہے کہ میں اس نماز (عشاء) کو تاخیر سے پڑھوں خواہ امام ہوں یا اکیلا پڑھوں جس طرح نبی ﷺ نے یہ ( تاخیر سے ) ادا فرمائی۔ہاں اگر تم پر اس طرح 1 کیلے پڑھنا گراں گزرے یا جماعت کی صورت میں لوگوں پر (یوں نماز پڑھنا مشکل ہو اور تم امام ہو تو درمیانے وقت میں یہ ( نماز ) پڑھ لونہ زیادہ جلدی نہ ہی تاخیر سے۔1008{226} حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى 1008: حضرت جابر بن سمرہ سے روایت ہے وہ کہتے وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ ہیں کہ رسول اللہ یہ عشاء کی نماز تاخیر کر کے پڑھا يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو کرتے تھے۔الْأَحْوَصِ عَنْ سَمَاكَ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَة قَالَ كَانَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَخِّرُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ [1453]