صحیح مسلم (جلد سوم)

Page 119 of 373

صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 119

صحیح مسلم جلد سوم 119 كتاب المساجد و مواضع الصلاة أَحَدٌ يُصَلِّي هَذه السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ أَوْ قَالَ مَا نماز پڑھنے والا نہیں تھا یا آپ نے فرمایا کہ اس وقت صَلَّى هَذه السَّاعَةَ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ لَا نَدْرِي تمہارے سوا کسی نے نماز نہیں پڑھی۔ہم نہیں جانتے أَيَّ الْكَلِمَتَيْنِ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَى فَرَجَعْنَا کہ دونوں میں سے کون سی بات آپ نے فرمائی۔فَرِحِينَ بِمَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ الله صَلَّى حضرت ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ماہ سے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [1451] یہ سننے کے بعد خوشی خوشی واپس گئے۔1007{225 وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعِ :1007: ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سے پوچھا کہ آپ کے نزدیک سب سے زیادہ قُلْتُ لِعَطَاء أَيُّ حين أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أَصَلِّيَ پسندیدہ وقت کون سا ہے جس میں میں عشاء کی نماز الْعِشَاءَ الَّتِي يَقُولُهَا النَّاسُ الْعَتَمَةَ إِمَامًا جسے لوگ عتمہ“ کہتے ہیں بطور امام پڑھاؤں یا وَخِلْوًا قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسِ يَقُولُ أَعْتَمَ اکیلے پڑھوں۔انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةِ ابن عباس کو کہتے ہوئے سنا کہ ایک رات نبی ہے الْعِشَاءَ قَالَ حَتَّى رَقَدَ نَاسُ وَاسْتَيْقَظُوا نے عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھائی۔وہ کہتے ہیں وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَطُوا فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یہانتک کہ لوگ سو گئے۔پھر جاگے پھر سو گئے اور پھر فَقَالَ الصَّلَاةَ فَقَالَ عَطَاء قَالَ ابْنُ عَبَّاس جاگے۔اسی اثناء میں حضرت عمر بن خطاب فَخَرَجَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کھڑے ہوئے اور عرض کیا نماز ! عطاء کہتے ہیں الله كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعًا حضرت ابن عباس نے کہا کہ نبی ﷺ اپنے سر پر يَدَهُ عَلَى شِقِّ رَأْسِهِ قَالَ لَوْلَا أَنْ يَشَقَّ عَلَی ایک طرف ہاتھ رکھے ہوئے تشریف لائے گویا کہ أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا كَذَلِكَ قَالَ میں ابھی اس وقت آپ کو دیکھ رہا ہوں آپ کے سر فَاسْتَقْبَتُ عَطَاءً كَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى (مبارک) سے پانی ٹپک رہا ہے۔آپ نے فرمایا کہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى رَأْسه كَمَا أَنْبَأَهُ اگر میری امت پر گراں نہ ہوتا تو میں انہیں ضرور حکم ابْنُ عَبَّاسِ فَبَدَّدَ لِي عَطَاء بَيْنَ أَصابعه شَيْئًا دیتا کہ وہ اسی وقت نماز پڑھا کریں۔وہ کہتے ہیں کہ مِنْ تَبْدِيدٍ ثُمَّ وَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ عَلَى میں نے عطاء سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے اپنے سر پر قَرْنِ الرَّأْسِ ثُمَّ صَبَّهَا يُمِرُّهَا كَذَلِكَ عَلَى ہاتھ کیسے رکھا تھا جیسے ان کو حضرت ابن عباس نے