صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 102
102 كتاب المساجد و مواضع الصلاة أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زہیر کہتے ہیں کہ میں نے ابو اسحاق سے پوچھا کیا ظہر فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ حَرَّ الرَّمْضَاء فَلَمْ يُشكنَا قَالَ کے بارہ میں؟ تو انہوں نے کہا ہاں۔میں نے پوچھا زُهَيْرٌ قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَقَ أَفِي الظُّهْرِ قَالَ نَعَمْ کیا اس کے جلدی پڑھنے کے بارہ میں تو انہوں نے قُلْتُ أَفِي تَعْجِيلَهَا قَالَ نَعَمْ [1406] کہا ہاں۔1913975] حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا :975: حضرت انس بن مالک سے روایت ہے وہ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ غَالب الْقَطَّانِ عَنْ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ( تپتی بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ قَالَ زمین کی گرمی کی شدت میں نماز پڑھتے تھے۔اگر كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی زمین پر نہ لگا سکتا تو وَسَلَّمَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کر لیتا۔أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ جَبْهَتَهُ مِنَ الْأَرْضِ بَسَطَ ثَوْبَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ [1407] [34]87: بَاب اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ باب عصر جلدی پڑھنے کا مستحب ہونا 976{192} حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا :976 حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ لَيْثٌ ح قَالَ و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ رسول اللہ ﷺ جب عصر کی نماز پڑھتے تھے تو سورج أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ ابھی بلند اور روشن ہوتا اور جانے والا عوالی * کو جاتا مَالك أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى الله اور عوالی میں ایسے وقت پہنچتا کہ سورج ابھی بلند ہوتا۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ قتیبہ نے عوالی پہنچنے کا ذکر نہیں کیا۔مُرْتَفَعَةٌ حَيَّةٌ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ وَالشَّمْسُ مُرتَفِعَةٌ وَلَمْ يَذْكُرُ عصر پڑھتے۔۔۔۔قُتَيْبَةُ فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعيد الأَيْلى حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عوالی سے مراد یہ بینہ کے گرد کی بستیاں ہیں۔مدینہ نشیب میں تھا اور اردگرد اضافی بستیاں پانچ میں سے آٹھ میل کے فاصلہ پر تھیں جو مدینہ سے کچھ بلند تھیں۔