صحیح مسلم (جلد سوم) — Page 96
96 كتاب المساجد و مواضع الصلاة عَلَيْهِ شَيْئًا قَالَ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ انْشَقَّ ہوئی لیکن اس وقت لوگ ایک دوسرے کو پہچان نہیں پا الْفَجْرُ وَالنَّاسُ لَا يَكَادُ يَعْرِفُ بَعْضُهُمْ رہے تھے۔پھر آپ نے انہیں ارشاد فرمایا اور سورج بَعْضًا ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بالظهر حينَ زَالَتْ کے زوال کے وقت ظہر کی نماز پڑھائی۔کہنے والا کہتا الشَّمْسُ وَالْقَائِلُ يَقُولُ قَدْ الْتَصَفَ النَّهَارُ کہ دن کا نصف حصہ گزر چکا ہے اور آپ ان میں سے وَهُوَ كَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ سب سے بہتر جانتے تھے۔پھر آپ نے انہیں ارشاد بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فرمایا جبکہ ابھی سورج بلند تھا۔عصر کی نماز پڑھائی۔بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَقَعَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَهُ جب سورج ڈوب گیا آپ نے انہیں ارشاد فرمایا اور غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَخَرَ مغرب کی نماز پڑھائی۔پھر شفق ختم ہونے پر آپ نے فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَخَرَ انہیں ارشاد فرمایا اور عشاء کی نماز پڑھائی۔پھر دوسرے دن آپ نے فجر کی نماز تاخیر سے ادا فرمائی وَالْقَائِلُ يَقُولُ قَدْ طَلَعَتْ الشَّمْسُ أَوْ یہانتک کہ آپ اس سے فارغ ہوئے تو کہنے والا کہتا الْفَجْرَ مِنْ الْغَدِ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا ثُلُثُ وقت الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ ثُمَّ أَخَرَ الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتْ ثُمَّ أَخَرَ الظُّهْرَ حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ که سورج نکل آیا، یا نکلنے کے قریب ہے۔پھر دوسرے دن آپ نے ظہر تاخیر سے ادا کی یہاں تک الصَرَفَ مِنْهَا وَالْقَائِلُ يَقُولُ قَدْ احْمَرَّت که وقت گزشتہ دن کے عصر کے قریب ہو گیا۔پھر الشَّمْسُ ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى كَانَ عِنْدَ آپ نے عصر بھی تاخیر سے ادا فرمائی یہانتک کہ جب سقوط الشَّفَقِ ثُمَّ أَخَرَ الْعَشَاءَ حَتَّى كَانَ اس سے فارغ ہوئے تو کہنے والا کہتا کہ سورج سرخ ثلث اللَّيْلِ الْأَوَّلِ ثُمَّ أَصْبَحَ فَدَعَا السَّائِلَ ہو گیا ہے۔پھر آپ نے مغرب تاخیر سے ادا فرمائی فَقَالَ الْوَقْتُ بَيْنَ هَذَيْنِ [179] حَدَّثَنَا أَبُو یہانتک کہ شفق کے غائب ہونے کا وقت ہو گیا۔پھر بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ بَدْرِ بْنِ عشاء تاخیر سے ادا کی یہاں تک کہ رات کی پہلی تہائی عُثْمَانَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْن أَبي مُوسَى سَمِعَهُ ہو گئی۔پھر جب صبح ہوئی تو آپ نے سوال کرنے منْهُ عَنْ أَبِيه أَنَّ سَائِلًا أَتَى النَّبيَّ صَلَّى الله والے کو بلایا اور فرمایا کہ ( نماز کے ) اوقات ان عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ دونوں ( اوقات ) کے درمیان ہیں۔بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَصَلَّى بدر بن عثمان، ابو بکر بن ابو موسیٰ سے روایت کرتے